ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

’’یوم تکبیر‘‘کا خالق مجتبیٰ رفیق

editor k qalam sy28مئی پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ اس دن 3بج کر16 منٹ پر اس وقت کے وزیرا عظم پاکستان میاں نواز شریف نے بٹن دباکہ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ناقابل تسخیر ملک بنا دیا۔ یہ ایٹمی دھماکے کرتے وقت پاکستان پر کتنا دباؤ تھا اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ وقت گواہ ہے کہ غیر مسلم طاقتیں ہمیشہ پاکستا ن کے خلاف تھیں اور ہیں۔امریکی صدر اور اس کے حواریوں نے پاکستان کی حکومت پر خوب پریشر ڈالا اور جب حکومت پاکستان اس پریشر کو کسی خاطر میں نہ لائی تو پھرکروڑں کے پیکج لالچ کی شکل میں دیے۔ لالچ دیتے وقت وہ بھول گئے کہ پاکستان کی عوام بھوکی سوکھی روٹی کھا کر تو گزارا کرسکتی مگر اپنے ملکی دفاع کا سودا نہیں کرسکتی۔
جب میاں نوازشریف نے دھمکے کردیے تو پھرانہوں نے اپنے ہی ملک کی عوام سے پوچھا کہ اب اس دن کو کس نام سے یاد رکھا جائے؟ اس کے جواب میں پاکستان بھر سے لوگوں نے مختلف نام تجویز کرکے حکومت پاکستان کو بھیجے ۔ جن پر حکومت پاکستان نے بڑا غور کیا اور پھر جس نام کو تجویز کیاگیا وہ نام تھا ’’یوم تکبیر‘‘ اس نام کو تجویز کرنے والا کوئی سیاستدان نہیں اور نہ ہی کسی بڑے گھرانے سے اسکا تعلق ہے مگر جس کو اللہ چاہیے عزت دے ۔ ایساہی انعام اس نوجوان کے حصہ میں آیا۔ جس نے ناصرف اپنا بلکہ اپنے گھروالوں کا نام بھی روشن کیا۔پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی تو پہلے بھی نہیں ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں نے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھے ہیں۔آج کل کے سیاستدان بھی نوجوانو ں کو قوم کا سرمایہ ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں اور ان ہی کے ذریعے وہ ا پنی منزل تک پہچنا چاہتے ہیں۔
جس طرح پاکستان کانام چوہدری رحمت علی نے تجویز کیا اسی طرح ایٹمی دھماکوں کی یاد منانے کانام’’ یوم تکبیر ‘‘ تجویز کرنے والے نوجوان کانام مجتبی رفیق ہے۔ جس کو میاں نواز شریف نے اپنی ہاتھ سے ایک لیٹر لکھا اور اس sanad mujtabaکے ساتھ ساتھ ایک سند سے بھی نواز۔ مجتبیٰ رفیق وہ نوجوان ہے جس نے انگلینڈ سے ایم بی اے کیا اور اس کے بعد اپنے ملک کی عوام کادرد دل میں رکھتے ہوئے کئی رفاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔ نابیناؤں کی مدد کے لیے این جی اوز کا ساتھ دیا۔ایسے نوجوانوں پر ہر ایک کو فخر ہوتا ہے۔ جس والدین کایہ چشم وچراغ ہے ان کا سینہ کتنا بڑا ہوتا ہوگا جب وہ اپنے بیٹے کے کارناموں کاذکرٹی وی میں سنتے یا اخبارات میں پڑھتے ہونگے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ خالی ناموں سے پیٹ نہیں بھرتے کیونکہ یہ نوجوان ایم بی اے کرنے کے باوجود بیروزگار ہے۔
بدقسمتی سے ایٹمی دھماکوں کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت کو ختم کردیاگیا ۔شائد اس وجہ سے اس نوجوان کو وہ حق نہ مل سکا جس کا یہ حقدار تھا۔ مجتبی رفیق جو اس امید پر انگلینڈ سے تعلیم حاصل کرکے پاکستان آیا کہ وہ پاکستان جا کر اپنے ملک کی خدمت کرکے اس کا نام روشن کرے گا ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر سال جب یہ دن منایا جائے تو اس دن اس نوجوان کو بھی اس دن کی طرح اہمیت دی جاتی مگر اس کا تو نام ہی نہیں لیاجاتا ۔ میں نے اس کو ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل ’’ہم‘‘ کے مورننگ شو میں اپنی آپ بیتی بتاتے ہوئے دیکھا تھا جس میں وہ اپنی بے بسی بتارہاتھاجس کو دیکھ کر مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔
اب پھر اللہ نے میاں نوازشریف کو ملک کی خدمت کرنے کا موقع دیا ہے ۔ان کی نہ صرف مرکز بلکہ پنجاب اور بلوچستان میں بھی حکومت قائم ہورہی ہے۔ میں اپنے اس کالم کے وساطت سے میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف اودیگر رہنماؤں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اب پھر 28مئی کا دن آرہا ہے اوراب اس نوجوان کو اس کا حق دیں۔ میاں نوازشریف اس کواپنے ہاتھ سے اسے ایوارڈ سے نوازیں تاکہ اس کی حوصلہ افزائی کو دیکھ کر دوسرے لوگوں میں بھی ایسے کارنامے انجام دینے کا حوصلہ پیدا ہو۔ جس نوجوان نے پوری دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کیا اس کو توسرآنکھوں پر بیٹھاناچاہیے مگر یہ نوجوان توبیروزگاری سے تنگ آکر روزگارکی تلاش میں مار ا مارا پھر رہا ہے۔حاکم وقت کو چاہیے کہ ایسے ٹیلنٹڈ نوجوان کو رسواکرنے کی بجائے اس کو اس کا جائز مقام دے تاکہ یہ اسی طرح اپنے ملک کی خدمت کرتا رہے۔

یہ بھی پڑھیں  قحط الرجال

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker