پاکستانتازہ ترین

یوسف رضاگیلانی کااپنی حکومتی کارکردگی اور پارٹی کےعہدے سے مستعفی ہونے کااعلان

yousaf raza gellaniملتان(بیورو رپورٹ)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ وہ اپنی حکومتی کارکردگی اور انتخابی نتائج پر پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ میرا یہ استعفیٰ پارٹی اختلاف کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ میں کارکن کی حیثیت سے پارٹی میں کام کرتا رہوں گا ۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ شام ملتان پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کہی ۔ گیلانی نے کہا کہ میری حکومتی کارکردگی سے یا پارٹی کو ملنے والے انتخابی نتائج سے بلاول بھٹو کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کے اثرات بلاول بھٹو کی سیاست پر پڑنے چاہیے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کسی شخص کے چلے جانے سے پارٹی کا کام نہیں رکتا میں نے پارٹی سے اختلافات کی وجہ سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ انتخابی نتائج کی وجہ سے استعفیٰ دیا ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ جائز نہیں ہے وہ ملکی صدر ہیں پارٹی کے صدر نہیں ہیں اور ان کا استعفیٰ دینا نہیں بنتا انہوں نے مزید کہا کہ آج پیپلز پارٹی دوسری بڑی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی ہے اور اب ہم اہم اپوزیشن کا کردار ادا کرینگے اور یہ کام ہم اتحادیوں کے ساتھ مل کر کرینگے انہوں نے کہا کہ ہماری یہ اپوزیشن ہوگی ہم نواز شریف حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف کرینگے اور کوتاہیوں پر تنقید کرینگے انہوں نے کہا کہ چار دن کے بعد عوام کی سمجھ میں آئے گا کہ الیکشن کیسے ہوئے اس میں کیا ہوا انہوں نے کہا کہ میڈیا نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ہے اور اب ہم میڈیا سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپوزیشن کی حیثیت سے ہمارا ساتھ دے گی انہوں نے کہا کہ پارٹی ہر حلقہ کے نتائج دیکھ رہی ہے ان پر غور کررہی ہے جس پر بعد میں بات کرینگے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ ہمیں انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں ملا اور ہمارے لئے ملتان میں جلسہ کرنا مشکل تھا ہمیں سکیورٹی کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور اسی دن 9تاریخ کو میرا بیٹا اغواء ہوگیا یوسف رضا گیلانی نے شاہ محمود قریشی کی جانب سے صدر آصف علی زرداری پر دھاندلی کرانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے کام نہیں کرتے اور نہ ہی وہ دھاندلی کراتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ 2008ء میں اصل مقصد ہمارا مشرف کا یونیفارم اتارنا تھا اس وقت نواز شریف الیکشن لڑنے کے حق میں نہیں تھے اگر بے نظیر بھٹو کے کہنے پر حصہ لیا اور بے نظیر کی شہادت کے بعد پھر انکاری ہوئے مگر پھر
آصف زرداری نے ان کو الیکشن میں حصہ لینے پرراضی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی مسلم لیگ ہو ، ایم کیو ایم ہو ، ق لیگ ہو ، جے یو آئی (ف) ہو سب ہمارے اتحادی رہے ہیں فاٹا والے بھی ہمارے اتحادی رہے ہیں اور ہمارے دور میں ہم پر بجلی کا بحران کا الزام عائد کیا گیا ہے اس کی اصل ذمہ دار نواز شریف اور مشرف ہیں ۔ نواز شریف نے بے نظیر دور میں آئی پی پیز کے ساتھ کئے گئے معاہدے منسوخ کئے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو جیل میں ڈالا اور مشرف نے بھی اس پر کوئی کام نہیں کیا انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بھاشا ڈیم اور تھرکول سمیت متعدد منصوبے بنائے ہوئے تھے جن کا کریڈٹ آنے والی نواز شریف کی حکومت لینا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں چار ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں ڈالی ۔ عوام ہماری کارکردگی کو جانتے ہیں میرے بیٹے علی حیدر گیلانی کا اغواء کئے جانے والے واقعے سے میرے استعفیٰ کا کوئی تعلق نہیں ہے میں نواز شریف کو وزیراعظم بننے پر مبارکباد دیتا ہوں اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے علی حیدر گیلانی کے اغواء کے حوالے سے میں نے صدر ، آرمی چیف ، آئی ایس آئی چیف اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بات کی تھی وہ کام کررہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ کراچی میں امن کیلئے ایم کیو ایم نے اہم کردار ادا کیا ہے اس کو دیوار سے لگانے کی باتیں نہیں ہونی چاہیے وہ جمہوریت کے لئے کام کرچکے ہیں اور کررہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  وزیر اعظم نواز شریف تین روزہ سرکاری دورے پر برطانیہ روانہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker