پاکستان

توہین عدالت کیس:فرد جرم عائد,وزیراعظم کا الزامات ماننے سے انکار

سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں وزیراعظم پر فرد جرم عائد کر دی ہے جبکہ یوسف رضا گیلانی نے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے جواب کیلئے مہلت مانگ لی جس پر سماعت بائیس فروری تک ملتوی کر دی گئی۔وزیرا عظم کو حاضری سے مستثنٰی قرار دے دیا گیا۔وزیراعظم اس اہم کیس میں پیش ہونے کیلئے خود گاڑی ڈرائیو کرکے سپریم کورٹ پہنچے۔جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔جسٹس ناصر الملک نے وزیر اعظم کو دو صفحات پر مشتمل فرد جرم پڑھ کر سنائی۔فرد جرم عائد ہونے کے بعد وزیر اعظم ملزم بن گئے ۔فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے عدالتی احکامات سے انحراف کیا اور منی لانڈرنگ کے معاملے میں خط نہیں لکھا۔فاضل بینچ نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ وہ اپنے خلاف الزامات کو تسلیم کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے چارج شیٹ پڑھنے کے بعد الزامات ماننے سے انکار کر دیا۔جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ آئندہ سماعت پر شہادتیں ریکارڈ کی جائیں گی۔بینچ نے وزیر اعظم کو اپنے دفاع میں شہادتیں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔بینچ نے یہ حکم بھی دیا کہ اٹارنی جنرل کو مقدمے کی تمام دستاویزات فراہم کی جائیں ۔اٹارنی جنرل کو کیس میں پراسیکیوٹر مقرر کر دیا گیا۔اس موقع پر وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ ایک دن میں مقدمے کی تیاری نہیں کی جا سکتی اورانہیں جرح کرنے کا حق حاصل ہے ۔وہ سینیٹ الیکشن میں مصروف ہیں لہذا انہیں چوبیس فروری تک وقت دیا جائے۔جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ ممکن ہے چوبیس فروری کو بنچ کا کوئی جج دستیاب نہ ہو جس پر اعتزاز احسن نے کہا پھر چوبیس فروری کے بعد تاریخ دے دی جائے ۔بینچ نے اٹارنی جنرل کو سولہ فروری تک تمام دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمے کی کارروائی بائیس فروری تک ملتوی کر دی۔فاضل عدالت نے وزیر اعظم کو حاضری سے مستثنٰی قرار دے دیا ہے ۔22 فروری کو استغاثہ کی جانب سے شہادتیں ریکارڈ کی جائیں گی جبکہ وکیل صفائی 27 فروری کو اپنی شہادتیں ریکارڈ کرائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں  ملک بھر میں آج عیدالفطر مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker