پاکستانتازہ ترین

چوردروازے سے نہیں آیا،سپیکرمجھے نااہل قراردے توچلاچائوں گا،وزیراعظم

اسلام آباد ﴿بیورو رپورٹ﴾وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم منتخب ہونے پر اتنی مبارکباد نہیں ملیں جتنی منتخب وزیر اعظم کو مجرم بننے کے بعد ملی ہیں۔ وزیر اعظم کو ایوان میں آنے سے روکنے کی دھمکی دینے والے خود بھاگ گئے ہیں ۔پنجاب حکومت کو گرانے کے لئے آئی بی کے فنڈز کی ضرورت نہیں بلکہ عقل کی ضرورت ہے۔ ایک بھائی صدر کو نہیں مانتا ،دوسرابھائی وزیر اعظم کو نہیں مانتا جبکہ ﴿ن﴾ لیگ عمران خان کو نہیں مانتی ۔عدالت سے سزا کے بعد پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کے بعد بہت سے شبہات پیدا ہوگئے تھے جس کے لئے میرے لئے ضروری تھا کہ میں ان کو دور کرتا۔وزیر قانون نے اس حوالے سے کافی ابہام دور کیا ہے۔جب 1999 ئ میں پرویز مشرف نے غیر آئینی طریقے سے حکومت کو گرایا ۔میں نے اس غیر آئینی اقدام کے دو دن بعد کہا کہ میں اس اسمبلی کوتسلیم نہیں کرتا جس میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نہیں ہوں گے ۔میاں عبد الستار اور لالیکا جو مسلم لیگ کے وزیر تھے نے کہا کہ ہم تسلیم کر چکے ہیں کہ آپ بھی اس غیر آئینی اقدام کو تسلیم کر لیں میں نے انکار کر دیا ۔جب بیگم کلثوم نواز نے تحریک شروع کی تو ہم نے اس کاساتھ دیا ۔اس وقت مایوسی ہوئی جب وہ خاندان سمیت بیرون ملک چلے گئے ۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا درس دینے والوں سے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہم مشرف کی طرح لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرا سکتے تھے اور ﴿ق﴾ لیگ کے ساتھ مل کر پنجاب میں حکومت بنا سکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔اس حکومت کو چلانا بہت مشکل ہے ۔میاں نواز شریف کو بہت دفعہ کہا کہ اس اسمبلی میں آئیں لیکن میں جانتا ہوں کہ ان کے اندر انا بہت زیادہ ہے اور وہ ان حالات میں اس ایوان کو چلانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ہم نے اپوزیشن کو اربوں کے فنڈز دیئے ہیں اور ہمیں پنجاب میں ایک روپے کے فنڈز نہیں دیئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ کہا جارہا تھا کہ آئی بی کے کروڑوں روپے کے فنڈز سے پنجاب حکومت کو گرانے کی تیاری کی جارہی تھی پنجاب حکومت کو گرانے کے لئے فنڈز کی نہیں عقل کی ضرورت ہے ۔آج وہ لوگ کہتے ہیں وزیر اعظم کو ایوان میں نہیں آنے دیں گے مجھے نااہل صرف سپیکر کر سکتی ہے ،مجھے اپوزیشن نے بھی منتخب کیا ہے اگر پارلیمنٹ نااہل کر دیتی ہے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ملتان میں ضمنی الیکشن میں ہم نے کامیابی حاصل کی ہے ۔عوام کی عدالت میں سرخرو ہوں گے ۔عوام کی سوچ پرقدغن نہیں لگا سکتے ۔ہم چور دروازوں سے اقتدار میں نہیں آئے اور ان کی غلط فہمی ہے کسی کی بساکھیوں کے ذریعے اقتدار میں نہیں آ سکتے ۔میڈیا نے بہت آگاہی پیدا کر دی ہے ۔اب کوئی غیر آئینی اقتدار کو قبول نہیں کریگا ۔کیا آئین کا احترام کرنا جرم ہے ،18 ویں آئینی ترمیم اکیلے نہیں بلکہ اس ایوان نے پاس کی ہے ،انہوں نے کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت صدر ،وزیر اعظم کو استثنی میں نے دیا ہے،آمروں کو استثنی ہے تو منتخب صدر پاکستان کو استثنی کیوں نہیں ہے ۔ادارے مضبوط ہوں گے تو ہم بھی ۔ایک بھائی کہتا ہے کہ میں صدر کو نہیں مانتا ،دوسرا کہنا ہے کہ میں وزیر اعظم کو نہیں مانتا جبکہ ساری مسلم لیگ ﴿ن﴾ عمران خان کو نہیں مانتی ۔جس کو میری شکل پسند نہیں وہ میرے خلاف عدم اعتماد لیکر آئیں ،ہم اپوزیشن کا احترام کرتے ہیں۔اپوزیشن اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں ۔اب سازشوں کا دور گزر گیا ہے ۔میں پارلیمنٹ کے ساتھ ہوں ۔تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ مجرم وزیر اعظم کو منتخب وزیر اعظم سے زیادہ مبارکبادیں ملی ہیں کیونکہ فون کرنے والوں نے کہا کہ آپ نے اصولی موقف اپنایا ہے ۔18 کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں  یوسف رضاگیلانی کااپنی حکومتی کارکردگی اور پارٹی کےعہدے سے مستعفی ہونے کااعلان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker