پاکستانتازہ ترین

عدالتی حکم پر عمل کرانے کا اختیاراپوزیشن کو نہیں ، یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد (بیورو رپورٹ)وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہانکے خلاف عدالتی حکم پر عمل کرانے کا اختیاراپوزیشن جماعتوں کو نہیں ہے ، پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرچکی ہے کہ غیرملکی جنگجوؤں کو ملک سے نکالنا ہے اور اس پر عمل فوج نے کرنا ہے۔ ورلڈ ٹیلی کام ڈے کی مناسبت سے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران جب ان سے سوال ہوا کہ کیا آپ استعفی دیں گے تو وزیراعظم نے کہاکہ استعفی کس کو دوں،انہوں نے کہاکہ چند لوگوں کو ہمارا چہرہ پسند نہیں، چند جماعتیں سوچتی ہیں کہ عدالتی حکم پر عمل کرانا انکی ڈیوٹی ہے،آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ عدالتی حکم پر سیاسی جماعتیں یا ن لیگ عمل کرائے گی، چیف الیکشن کمشنر کے تقرر سے متعلق وزیراعظم نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر نے جواب دیا ہے کہ ہم آپ کو وزیراعظم نہیں مانتے، اس پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو چلا گیا ہے،وزیراعظم نے کہاکہ باقی ماندہ کنٹریکٹ ملازمین کو بھی مستقل کیا جائے گا ، انہوں نے کہاکہ سرائیکی صوبہ صرف ان کی نہیں 4 کروڑ عوام کی خواہش ہے، انکے خلاف سازشیں کرنے والے سرائیکی صوبہ بننے سے پہلے وزیراعظم کو بھیجنا چاہتے ہیں،وزیراعظم نے کہاکہ نیٹو نے شکاگو کانفرنس کی دعوت غیرمشروط طور پر دی . وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ صدر زرداری کو شگاگو کانفرنس میںشرکت کے لیے غیر مشروط طورپر دعوت دی گئی ہے اور وہ کانفرنس میں شرکت کریںگے جن لوگوں کو ہمارا چہرہ پسند نہیں وہ چاہتے ہیں ہم ہٹ جائیںآئین میں کہیں نہیں لکھا کہ سیاسی جماعتیں اوران میں بھی خصوصی طور پر (ن) لیگ سپریم کورٹ کے فیصلوں پرعمل کروائے گی ان سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ آئین پڑھ لیںغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کو یقینی بنایاجائیگا صوبوں کے بجلی پیداکرنے پر پابندی نہیں توانائی کانفرنس کے فیصلے کے مطابق صوبوں نے دوچھٹیاں نہیں کیںاگر دو چھٹیاں ہو گئیںتوبجلی کا مسئلہ حل ہوجائیگا پھر وہ کس کے خلاف احتجاج کریں گے الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے تین نام کمیٹی کو بھجوا دئیے (ن) لیگ نے کمیٹی میںشامل ہو کر مجھے وزیراعظم تسلیم کرلیا ۔ سرائیکی صوبہ کے حوالہ سے درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں سرائیکی صوبہ کے خلاف سازشیں کرنے والے چاہتے ہیں میں صوبہ بننے سے پہلے گھر چلا جاؤں شمالی وزیرستان ایجنسی میںآپریشن کا فیصلہ فوج اور متعلقہ ادارے کریںگے ۔۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے شیڈول لوڈشیڈنگ کو کنٹرول کریں گے تاکہ عوام کو تکلیف نہ ہو ہم آپ کو کیوں تنگ کریں گے آپ بہت اچھے ہیں ہر الیکشن میں ہمیں جتوا دیتے ہیںاور ہماری پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں چند لوگ ہیں جن کو ہمارا چہرہ پسند نہیں ان کے آئین میں طریقہ کار درج ہے انکاکہنا تھا کہ چند سیاسی جماعتیں یہ سوچتی ہیں کہ سپریم کورٹ کے ا حکامات پر عملدرآمد کرانا ان کی ڈیوٹی ہے انکو آئین پڑھنا چاہیے ۔آئین میں کہیں بھی درج نہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد سیاسی جماعتیں کروائیں گی ارو وہ بھی خاص طو رپر (ن) لیگ کروائے گی یہ کہیں درج نہیں یہ (ن) لیگ کے اپنے خیالات ہیں کہ وہ کسی کا فیصلہ قبول کریں یا نہ کریں ہم انہیں مجبورنہیں کرسکتے۔ شریف برادران کے خلاف کیسوں کا فیصلہ عدالتوں اور نیب نے کرنا ہے ۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے اعلان کا کرکے صحافیوںکوامیرپس کرنا چاہتے ہیں ایک صحافی کے سوال پر کہ لوڈ شیڈنگ کیوںختم نہیں ہوتی۔وزیراعظم نے صحافی سے کہا آپ آئیںکبھی میرے ساتھ ملاقات کریں پھر میںبتاؤں گاکہ لوڈشیڈنگ کیوں ختم نہیںہوتی۔وزیراعظم نے کہا کہ نیٹو سپلائی کے حوالہ سے ہمارے مذاکرات جاری ہیں امریکہ نہیںبتا سکتاکہ کیا ہوا ہے تو ہم کیوں بتائیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھ سے سوال پوچھنے والے نے پوچھا تھا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے اور اس میں کوئی نہیں رہنا چاہتا ہے اس پر میں نے کہا تھا کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں بلکہ کامیاب ریاست ہے اور اس میں کوئی ناکام ریاست کابہانہ کرکے جانا چاہتا ہے تو چلاجائے ایک سوال پر یہ کہ کیا حکومت شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے جا رہی ہے وزیراعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے کہاہے کہ بیرونی جنگجوؤں کو ملک سے نکالاجائے اب یہ فوج اور دیگر متعلقہ اداروں پر ہے کہ وہ کب اس آپریشن کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں وزیر اعظم نے کہا کہ 20 ترمیم کے تحت الیکشن کمشنر کے نام پر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان اتفاق رائے ہونا تھا میں نے اپوزیشن لیڈر سے التجا کی کہ بیٹھیںاور کوئی فیصلہ کریں انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو وزیراعظم نہیںمانتے پھر ہم نے کمیٹی کونام بھجوا دئیے اب کمیٹی میں وہ بیٹھ گئے ہیں اس کا مطلب ہے وہ میرے ساتھ بیٹھ گئے کمیٹی اور میرے چیئرمین خورسید شاہ کو تسلیم کرلیاہے مجھے بھی تسلیم کرلیںگے اب کمیٹی کوتقرری کا فیصلہ کرنے دیں ان کاکہنا تھاکہ سرکاری ملازمین جن کو نوازشریف نے نکالا تھا۔ ان کی اور کنٹریکٹ ملازمین خواہ مشرف دور کے تھے ان کی بحالی کا فیصلہ بے نظیر بھٹو کا تھا ۔ ہم نے ان ملازمین کو مستقل کیا ہے اور اگر کوئی رہ گئے ہیں ان کو بھی کردیںگے۔ ا یک سوال پر انکاکہنا تھا کہ سرائیکی صوبہ میری نہیں چارکروڑ عوام کی خواہش ہے اس کے لیے ہم نے قومی اسمبلی میں قرار داد پاس کی ا س کے بعد لاہور میں بھی قرارداد پاس ہو گی ہم صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں جو لوگ
سازشیں کررہے ہیں وہ چاہتے ہیں سرائیکی صوبہ بننے سے پہلے وزیراعظم چلا جائے وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ایک مسئلہ ہے اورکوئی بھی حکومت نہیں چاہتی ہے کہ وہ عوام میں غیر مقبول ہو ان کاکہنا تھا کہ کیا صوبوں پر بجلی پیدا کرنے پر پابندی ہے صوبے و الے لوگوں کو اکساتے ہیں کہ آئین انکے خلاف احتجاج کریںاور توڑ پھوڑ کریں وہ خود بھی کیابجلی پیدانہیں کر سکتے۔کانفرنس کے فیصلے کے تحت وہ دو روز کی چھٹی اس لیے نہیںکرنا چاہتے کہ حالات ٹھیک ہو جائیںگے تو مظاہر ہ کس بات پر کریںگے۔

یہ بھی پڑھیں  کابل : سپریم کورٹ احاطہ میں دھماکہ ، 20 افراد جاں بحق ، 45 زخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker