تازہ ترینعلاقائی

یوتھ بلڈ آرگنائزیشن کیزیر اہتمام سالانہ افطار ڈنر کا انعقاد کیا گیا

خون کے عطیہ سے کئی قیمتی انسانی جانیں  بچائی جا سکتی ہیں، ارسلان سعید اعوان

راولپنڈی(نمائندہ خصوصی) یوتھ بلڈ آرگنائزیشن کیزیر اہتمام سالانہ افطار ڈنر کا انعقاد کیا گیا۔ افطار ڈنر میں  یوتھ بلڈ ا?رگنائزیشن کے رضاکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق جڑواں  شہروں میں گراں قدر خدمات سر انجام دینے والی فلاحی تنظیم یوتھ بلڈ ا?رگنائزیشن نے لوگوں  میں خون کے عطیات کو فروغ دینے کیلئے سالانہ افطار ڈنر کا اہتمام کیا۔ افطار ڈنر میں اے ایس پی غلام رسول، پروفیسر فہد برہان نے مہمان خصوصی اور طیب ملک (شفا انٹرنیشنل)اور طاہر مسعود اعوان سمیت رضاکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر فاؤنڈر یوتھ بلڈآرگنائزیشن ارسلان سعید اعوان کا کہنا تھا کہ بلڈ ڈونیشن عطیہ خدمت خلق کا ایک بہت بڑا کام ہے۔اس سے کسی کی جان بچائی جاسکتی ہے۔تھیلے سیمیاکے مریضوں میں خون کی کمی کو صرف بلڈ ڈونیشن سے پورا کیا جاسکتا ہے۔اس سے معاشرے میں بھائی چارہ بڑھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے رضاکارانہ طور پر مریضوں اور ضرورت مندوں کو خون کے عطیات دینا شروع کئے تو ہمیں کئی مسائل کا سامنا تھا۔ لوگوں کے بالخصوص نوجوانوں  کے تعاون سے ہم نے کئی مسائل پر قابو پا لیا ہے،شروع میں تو بلڈ ڈونیٹ کرنے کا تصور کم تھا۔ لیکن اب لوگوں میں کافی شعور آگیا ہے۔ دیکھا جائے توہر سال پاکستان میں لاکھوں افراداپنا خون عطیہ کرتے ہیں۔ لوگ اپنے مریضوں کیلئے بھی اور رضاکارانہ طور پر بھی خون ڈونیٹ کرتے ہیں۔تاہم گزشتہ برس کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے عطیہ خون کے رحجان میں نمایاں کمی ا?ئی تھی، جس سے نہ صرف مریض بلکہ ہمارے لئے بھی مشکلات پیدا ہوئیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں خون عطیہ کریں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں  مدد ملے۔افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی اے ایس پی غلام رسول اور پروفیسر فہد برہان نے یوتھ بلڈ آرگنائزیشن کی کاوشوں  کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں پر مشتمل یہ تنظیم انتہائی محدود وسائل میں حیران کن عملی خدمات سر انجام دے رہی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ خون کے عطیات بلامعاوضہ اور کم سے کم وقت میں دیئے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جڑواں شہروں کے مخیر حضرات یوتھ بلڈ آرگنائزیشن کے ساتھ تعاون سے کئی قیمتی انسانی جانیں  بچا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!