تازہ ترینکالممیرافسر امان

زکوٰۃ! معاشی توازُن کے لیے

mir afsarفرض:۔اسلام میں زکوٰۃ مسلمانوں پر ایک مقررہ حساب سے فرض کی گیٗ ہے۔ سورۃ(التوبہ۱۰۳) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اے نبی ؐ! تم ان کے اموال میں سے صدقہ( فرض زکوٰۃ) لے کر انھیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ)انھیں بڑھاؤ‘‘ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے خاص احکام دئیے ہیں قرآن شریف کی سورۃ( البقرۃ۲۶۷)میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’جو پاک مال تم نے کمائے ہیں اور پیداوار ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے راہِ خدا میں خرچ کرو‘‘دوسری جگہ سورۃ( الانعام ۱۴۱) میں فرمایا ہے ’’اس کی پیداوار جب نکلے تو اس میں سے کھاؤاور فصل کٹنے کے دن اللہ کا حق نکال دو‘‘۔
تیسرا ستون :۔ زکوۃاسلام کا تیسرا ستون ہے جس پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے ۔اس کی اہمیت کو آپ اس طرح سمجھیں کہ نماز کے بعد زکوٰۃ کا ذکر قرآن شریف میں بار بار آتا ہے ۔زکوٰۃ کے معنی پاکی کے ہیں جب انسان اپنے مال سے زکوٰۃ نکالتا ہے تو اس سے اپنا مال پاک کر لیتا ہے اصل میں جو مال اللہ نے انسان کو دیا یہ اس کا اپنا نہیں ہے یہ مال اللہ کا ہے اور اللہ نے اس مال میں سے حاجتمندوں کا حصہ رکھااور اس حصے کو اپنے مال سے نکالنا مسلمان پر فرض کر دیا گیا ہے۔ ایک شخص زکوٰۃ نہیں نکالتا تو وہ فرض کی ادائیگی نہیں کر رہا، تو یہ گناہ ہے۔اور گناہ کا اللہ تعالیٰ کو آخرت میں حساب دینا پڑے گا۔
زکوٰۃ سے انکار پر جنگ:۔دوسری عبادات کی کوئی قیمت نہیں رہتی اگر زکوٰۃ نہ نکالی جاےٗ۔خلیفہِ رسول ؐ حضرت ابوبکرؓ نے زکوٰۃ کا انکار کرنے والے شروع کے مسلمانوں کے خلاف جہاد کیا جیسے کافروں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور فرمایا میں ان کے ساتھ اس وقت تک لڑتارہوں گا جب تک وہ اونٹ کی رسی جو رسول ؐ کے زمانے میں دیتے تھے دینا شروع نہ کر دیں۔
زکوٰۃ تمام انبیاء کے دین میں فرض تھی:۔ زکوٰۃ تمام انبیا ؑ کے دین میں فرض تھی۔قرآن کو اُٹھا کے دیکھیں تمام انبیاء کی امتوں کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔حضرت عیسیٰ ؑ نے جب گہوارے میں سے اللہ کے حکم سے لوگوں سے بات کی تھی تو دوسری باتوں کے علاوہ یہ بات بھی کی تھی کہ مجھے اللہ نے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔ سورۃ (مریم۳۱) میں ہے ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے برکت دی جہاں بھی میں ہوں اور مجھے ہدایت فرمائی کہ نماز پڑھوں اور زکوٰۃ دیتا رہوں جب تک زندہ رہوں‘‘ حضرت ابراھیم ؑ اور ان کی نسل کے انبیاء کواللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا تھا۔ زکوۃاگرچہ تمام شریعتوں میں جز رہی ہے۔لیکن اس کے احکا م تمام شریعتوں میں الگ الگ رہے ہیں۔شکر نعمت کا فطری تقاضہ یہ ہے آدمی راہ خدا میں مال خرچ کرے۔اللہ کی نعمت کے وہی لوگ مستحق ہیں جو زکوٰۃ دیں۔ زکوٰۃ اللہ ہی کو پہنچتی ہے۔ اللہ صدقہ دینے والوں کو جزا دیتا ہے۔زکوٰۃ ایک ذریعہ ہے تزکیہ نفس کا۔جیسے بتایا گیا ہے کہ زکوٰۃ کے معنی پاک کرنے کے ہیں ۔یعنی زکوٰۃ دے کر انسان اپنے نفس کو پاک کرتا ہے۔ زکوٰۃ کی اہمیت اسلام کے دستور میں قانونی ہے اسی لیے مانعین زکوٰۃ کے خلاف حضرت ابوبکرؓ نے جنگ کی۔
حاجتمندوں کے لیے ایک عظیم منصوبہ:۔ وہ انقلاب عظیم جو اس کے ادا کرنے کا نتیجہ ہے آخر ت کی کامیابی کی صورت میں نکلتا ہے اور دنیا میں بھی اس کے ثمرات ملتے ہیں ۔اسی لیے رسول ؐ نے فرمایا تم میری لائی ہوئی شر یعت کو نافذ کر دو تم ہاتھوں میں دولت لیے لیے پھرو گے تمہیں کوئی حقدار نہیں ملے گا، مطلب لوگ مالدار ہو جائیں گے۔ زکوٰۃ کی تنظیم نے عربوں کی زندگی میں عظیم انقلاب برپا کیا۔ زکوٰۃ کی دین میں بہت ہی اہمیت ہے اسی لیے زکوٰۃ کا نماز کے بعدبار بار قرآن میں ذکر ہے۔
زکوٰۃ کی تحصیل اسلامی حکومت کی ذمہ داری:۔اسلامی حکو مت کی ذمہ داری ہے کہ وہ زکوٰۃ کی وصولی کا انتظام قائم کرے ملک کے دولت مند مسلمانوں سے نصاب کے مطابق زکوٰۃ وصول کرے اور مندرجہ ذیل حاجتمندوں میں تقسیم کا انتظام قائم کرے ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے خاندان یعنی بنی ہاشم پر زکوٰۃ لینا حرام ہے۔قرآن شریف میں زکوٰۃ کی آٹھ مدّات کا حکم ہے۔
ا۔ فُقرا :۔ زکوٰۃ فقیروں کے لیے جو تنگ دست ہوں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی بڑی مشکل سے گزار رہے ہوں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلاتے ہوں۔
۲۔مساکین :۔مساکین وہ ہیں جو اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔ یہ بہت ہی تنگ دست لوگ ہیں جو اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتے کمانے کے قابل ہوں مگر روزگار نہ ملتا ہو۔
۳۔ عا ملین علیہا :۔یعنی زکوٰۃ کا مصرف زکوٰۃ وصول کرنے پر جو مامورہوں۔ اسلامی حکومت ان کو جو کچھ تنخواہ کی مد میں دے ۔
۴۔موٗلفۃالقلوب :۔ زکوٰۃ اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہوںیعنی جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہوں یا جنکی اسلام دشمنی کو کم کرنے میں مدد کی ضرورت ہو۔
۵۔ فی الرً قاب :۔اس سے مراد جو شخص غلام ہواسکو آ زاد کرانے میں یعنی غلاموں کی آزادی کے لیے زکوٰۃ کا استعمال جائز ہے۔آجکل جیل کے اندر قیدحقدار قیدیوں کی رہائی کے لیے زکوٰۃ استعمال کیا جا سکتی ہے۔
۶۔ الغارمین :۔اس سے مراد جو لوگ قرضدار ہو ں مگر اپنا قرض ادا نہ کر سکتے ہوں ان کا قرض ادا کرنے کے لیے زکوۃ استعمال کی جا سکتی ہے۔
۷۔فی سبیل اللہ:۔اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے یعنی جہاد کے لیے زکوٰۃ استعمال کی جا سکتی ہے کوئی شخص مال دار ہے مگر اللہ کے دین کو قائم کرنے میں لگا ہوا ہے اس کو بھی ز کوٰ ۃ دی جا سکتی ہے۔
۸۔ ابنُ السّبیل :۔ اگر کوئی شخص مسافر ہے اور اسے پیسے کی ضرورت ہے اس کی زکوٰۃ میں سے مدد کی جاسکتی ہے چاہے وہ اپنے ملک میں ما لدار ہی کیوں نہ ہو۔
زکوٰۃ کا ادا کرنا ایمان لانے والوں کی لازمی ذمہ داری ہے۔اس کا انتظام اسلامی حکومت کی لازمی ذمہ داری میں شامل ہے۔زکوٰۃ سے غفلت نہ برتنے والے ہی ہدایات پاتے ہیں۔اس سے مال گٹھتا نہیں بڑھتا ہے۔اس کے ادا کرنے کا حکم ہے۔اس کے ادا کرنے کا نتیجہ آخر ت کی کامیابی ہے۔ زکوٰۃ کی دین میں بہت ہی اہمیت ہے ز کوٰۃ دینے کے بعد بھی آدمی کے مال میں اللہ کا حق رہتا ہے۔زکوٰۃ کی فرضیت کا حکم مدینہ میں نازل ہوا۔زکوٰۃ مال کو پاکیزہ کرتی ہے۔زکوٰۃ نہ دینے والوں کو سزا کی وعید،حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبی ؐ نے فرمایا جس کو اللہ نے مال دیا اور اُس نے اُس کی زکوٰۃ نہیں دی تو اس کا مال قیامت کے دن گنجے سانپ کی صورت میں جس کی آنکھوں پر دو سیا ہ نقطے ہوں گے پیش کیا جائے گا پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا میں تیرا مال ہوں ۔ میں تیرا خزانہ ہوں ۔ (بخاری)حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول ؐ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے پاس اونٹ، گائیں یا بکریاں ہوں اور وہ اِن کا حق (یعنی زکوٰۃ) ادا نہ کرے تو قیامت کے دن یہ چیزیں بہت بڑی فربہ شکل میں لائی جائیں گی اور اپنے پیروں سے کچلیں گی اور سینگوں سے ماریں گی ۔رسول ؐ سے نے فرمایا ۔بے شک اللہ نے لوگوں پر صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مال دار لوگوں سے لیا جائے گا اور اسے ان کے ضرورت مندوں کو لوٹایا جائے گا( متفق علیہ)اسی لیے رسول ؐ نے فرمایا تم میری لائی ہوئی شر یعت کو نافذ کر دو تم ہاتھوں میں دولت لیے لیے پھرو گے تمہیں کوئی حقدار نہیں ملے گا، مطلب لوگ مالدار ہو جائیں گے۔
قارئین زکوٰۃ اسلام میں معاشی توازن قائم رکھنے کے لیے فرض کی گئی ہے۔ زکوٰۃ کی تنظیم نے عربوں کی زندگی میں عظیم انقلاب برپا کیا تھا جو اب بھی مسلمان ملکوں میں ہو سکتا ہے اللہ ہمیں اس اہم فرض کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

یہ بھی پڑھیں  فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنا ہے، آصف زرداری

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker