بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

’’ زلزلہ ‘‘ پیاروں کی یاد کے تقاضے!!!

زلزلہ کو ہوئے آج سات برس ہو چکے ہیں۔آج کے دن لاکھوں کشمیری اپنے بچھڑے ہوئے پیاروں کی یاد میں اللہ تعالیٰ سے ان کے درجات کی بلندی اور ان کی اچانک جدائی پر نوحہ و کناں ہو کر اپنے بچنے اور بسانے کے ادھورے خواب ایک با رپھر دیکھ رہے ہیں۔زلزلہ آج سے سات برس قبل ۸ :اکتوبر ۲۰۰۵صبح ۵۲۔۸بجے قریباً ۷ سکیل کا ہوا تھا جس نے آن واحد میں ۸۰ ہزار سے زائد افراد کو لقمہ اجل بنا دیا تھا۔بالاکوٹ(خیبر پختونخوا)اور آذادکشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد ،ہٹیاں بالا ،باغ اور گردونواح کے سینکڑوں دیہات متاثر کئے۔ملکی اور غیر ملکی امدادی کارروائیوں کے نتیجے میں بحالی اور تعمیر نو کا آغاز کیا گیا جو ہنوز جاری ہے۔اس دوران آذاد ریاست کے چارمنتخب
وزراء اعظم سردار سکندر حیات خان،سردار محمد عتیق خان ،سردار محمد یعقوب خان (اب صدر آذادریاست)،راجہ فاروق حیدر خان (اب لیڈر آف اپوزیشن)نے جس طرح بھی ہو سکا انہوں نے متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو میں زبانی و عملی بے شمار اعلانات و اقدامات کئے۔
پاکستان پیپلپز پارٹی آذاد کشمیر کے اقتدار کا دوسرا سال گذر رہا ہے ۔ماضی کی کئی خرابیوں کے باوجود نامکمل منصوبوں پر کام جاری ہے مگر ابتدا سے سطحی منصوبہ بندی کے سبب آج بھی متاثرہ علاقہ کے عوام گوناگوں مسائل کا شکار ہیں۔زلزلہ ہوتے ہی بلاشبہ پاک افواج کی قربانیاں قابل قدر رہیں مگر سروے کے دوران کرپٹ مافیا نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ۔جن متاثرین نے رشوت نہیں دی انہیں ناصرف معاوضوں بلکہ ان کی ملکیتی یا قابض اراضی سے محروم کرنے کی مذموم انسانیت سوز سازش کی گئی۔کچھ تو ایسے عوام کو لوٹا گیا اور کچھ اب سننے میں آیا کہ ۵۵ ارب روپے کی پھکی بھی پوری قوم کو بھگتنا پڑے گی۔قانون کا یہ بھی مقصد ہر گز نہیں کہ عوام کو تختہ مشق بنایا جائے،وہی قانون اسلام اور معاشرت کی بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے جو عوام کے جان و مال کا تحفظ کرتا ہو۔یہاں ’’آوے کا آوہ‘‘ ہی تباہی کا منظر پیش کرتا ہو وہاں خیر کی کیا توقعہ کی جائے ؟؟ْ؟
ایک مثال دیکر ایرا اور سیرا کی عوام دشمنی واضح کرنا چاہوں گا ۔ضلع ہٹیاں با لا کی یونین کونسل گوجربانڈی کے رہائشی سید عابد شاہ کو ریاست کا شہری ہونے اور متاثر زلزلہ ہونے کے باوجود ابھی تک معاوضہ سے محروم رکھا گیا ہے۔اندھیر نگری کا یہ حال ہے کہ سائل دفاتر میں انصاف کے لئے در بدر ہو رہا ہے مگر قانون کے علمبردار اپنی ٹھاٹ بھاٹ میں مگن ہیں۔یہ سلوک غریب عوام سے کیا جا رہا ہے جبکہ با اثر لوگ اس رونے دھونے سے محفوظ ہیں۔عوام سے ایسے امتیازی سلوک روا رکھنے والے زیادہ دیر اپنے مظالم جاری نہیں رکھ سکتے۔غیر اسلامی ممالک میں انسانیت کی قدر کو ترجیج دی جا تی ہے مگر ہماریہاں اس کا الٹ ہے۔وہاں حکومت کا پیدا ہونے والے بچے سے قریب المرگ تک ہر ایک کی بنیادی ضرورت کا خیال رکھا جانا طے شدہ اصول ہے۔کسی شہری کو دو یا اس سے زائد سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ ہمارے انگریز کی چھوڑی ہوئی وراثت ’’پشتنی اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ ‘‘کسی بھی سرکاری کام کے لئے ضروری ہے حالانکہ شناختی کارڈ کی موجودگی میں مزید’’ ڈرامے‘‘ محض عوام کو پریشانی کا شکار کرنے کے مترادف ہیں۔’’لوٹ مار ‘‘کو باقاعدہ صنعت کا درجہ مل چکا ہے۔احساس ذمہ داری کا تصور کہیں نہیں ،افسر شاہی کے اس ماحول میں مظلوم عوام کے لئے ان دو راستوں ’’ ملک بدری یا پھر ظالم کا گریباں پکڑنے ‘‘کے علاوہ کوئی راستہ باقی نظر نہیں بچتا ۔غریب ’’بچارا ‘‘گریبان کیا پکڑے گا؟؟؟ انصاف لیتے لیتے ’’جیل ‘‘ کے ’’مفت مزے‘‘ بھی غریب کی قسمت میں لکھے گے ہیں۔رہی ملک بدری ،وہ بھی ’’برطانیہ‘‘ جیسے ملک میں کی جائے ،یہ بھی غریب کے خواب میں نہیں آسکتی۔کیا جہاں زندہ رہنے کے لئے بھی قانوں آڑے آتا ہو وہاں سے ہجرت کر لینی چاہئے؟؟؟
بہرحال سب مایوسیوں اور محرومیوں کے باوجود ہمیں حقائق پر غور و فکر کرنا ہو گا۔ابھی بھی وقت ہے کہ ہم معاشرتی عدم توزان کا خاتمہ کر لیں۔انقلاب کی بے رحم موجیں گرم و سرد نہیں دیکھا کرتیں ۔ان لوگوں کے لئے انتباہ ہے جو عوام دشمن راستوں پر خوفناک مستقبل سے بے خبر چل رہے ہیں ۔ان سماجی تفریقات کو سامنے رکھتے ہوئے معاشرہ سازی درست کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کی خاطر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو برؤے کا رلائیں ۔ایسے قوانین جو عوامی مفاد کے مغائر ہوں ان میں ترمیمات کر کے عوام کی بھلائی کا سوچا جائے۔
آج کے دن ان پیاروں کو یاد کرنے کا مقصد بھی یہ ہے کہ ہم تجدید عہد کریں کہ کوئی ایسا قدم جو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نبیﷺ کی اطاعت کے بر عکس ہو اسے قانون سے نکالنے اور قومی مفاد پر مبنی قانون سازی یقینی بناہی جائے۔انگریز کے تحائف ذدہ قانون کی شکل بدل کر اپنے معاشرے کی اصلاح اور ترقی کے لئے جد و جہد کی جائے۔ہم ایک قیامت سے گذرے ہیں ہمارے پیارے یکدم ہم سے جدا ہوئے ،ہماری رہائش تباہ ہوئیں اور ہمیں معمول کی زندگی سے محروم ہونا پڑا۔اس قدر المناک اور سبق آموز ’’زلزلہ‘‘ نے ہمیں انسانیت کا درس دیا ہے ۔اس خوفناک واقعہ کے بعد ہمیں اپنی آخروی زندگی کا خیال کرنا پڑے گا۔عارضی زندگی کے لئے ہمیشہ کی زندگی پر قربان کرنے والے’’ احمق‘‘ ہو سکتے ہیں ،انہیں ذلت اور رسوائی کا دونوں جہانوں میں سامنا کرنا پڑے گا۔
حکومت کو چاہئے کہ وہ ۵۵ ارب روپے کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لے،جن شہریوں کو ۲۰۰۵ میں طے کردہ معاوضہ نہیں ملا انہیں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے دوگنا معاوضے کا مستحق قرار دے کر انصاف کو دوبالا کیا جائے ،جو شہری جس نوعیت کی آراضی پر مقیم (بندوبست)و قابض(خالصہ سرکار رقبہ) ہو اسے بے دخل کرنے سے اجتناب کیا جائے بالخصوص مہاجر مقبوضہ جموں کشمیر کو خصوصی نرمی کا مستحق قرار دیکر انہیں مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔پی پی پی کے منشور ’’عوام طاقت کا سر چشمہ ہیں‘‘ اس وعدے کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے قوانین کو بدلا جائے جو عام شہری کی زندگی کو متاثر کر رہے ہوں۔امید ہے کہ تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر حکمران اور اپوزیشن اپنی تاریخ رقم کرنے میں مثالی کردار ادا کرہئے گی۔

یہ بھی پڑھیں  دپیکا نے امیتابھ کومعاوضے کی دوڑمیں پیچھے چھوڑدیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker