تازہ ترینکالممرزا عارف رشید

زنیب جیسی کتنی اور بیٹا انصاف کی منتظر ہیں

قیام پاکستان سے لیں کراب تک کس قانون پر عمل کیا گیا جب بات ہو ترمیم کی سب سے پہلے سیاستدنوں کو فوری طور پر ترمیم پیش کرنا اور اُس پر عمل درامد کرو انا یاد آتا ہے جبکہ قانون بھی بن جاتا ہے جہان بات ہو غر یب کی عزت کی تو سب کو سانپ سونگ جاتا ہے زنیب جیسی کتنی اور بہن بیٹاں انصاف کی منتظر ہیں عزتوں کے لوٹیروں کو کیوں نہیں پکٹرا جاتا پولیس کا کردار جس طرح کا بھی ہے سب کے علم میں ہے خادم اعلی ہوش کے ناخن لیے جہاں بھی جاتے ہیں رقم کا اعلان کر کے آجاتے ہیں لاکھوں روپے کے اعلان کرنے سے کیاکسی غریب کی بیٹی کی عزت واپس آجائے گی کیا قتل ہونے والا واپس اجائے گا اگر قانون سب کے لیے برابر ہوتا تو اس طرح کے واقعہ نہ ہوتے کسی غر یب کی بیٹی کی عزت کو اس طرح تار تار نہ کیا جاتا مظلوم کو یہاں انصاف نہیں ملتا اور طاقتور کے لے یہاں کوئی قانون نہں عوام کا اعتماد حکومتوں سے زیادہ افواج پاکستان پر ہے ملک کی اعلی عدلتوں سے انصاف کی اُمید کی جاتی ہے پاکستانی قوم کا اعتماد حکومتوں پر سے کیوں ختم ہوتا جارہا ہے جمہوریت کے نام پر لا قانونیت کے قانوں پر عملدارمد کیا جا رہا ہے طاقتور کے لیے کوئی قانون نہیں غریب کے لیے قانون بنایا گیا ہے جہاں قانو ن کی قیمت لگتی ہو واہاں انصاف کی اُ مید رکھنا فضول ہے اس ملک میں ہر چیز بولی لگتی کہی جسموں کی تو کہیے قانون کی تو کہی انصاف کی تو کہی رات کی تاریخی کی بولی لگتی جہان پوری قوم زینب کے لیے حکومت سے انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کر رہی ہے تو پھر ہر اُس بہن بیٹی کے لیے انصاف مانگے جن کو آج تک انصاف نہیں ملا یہ کہا کا انصاف ہے کہ جب ملزم نہیں پکٹر ا جاتا پھر آس کے سر کی قیمت لگائی جاتی ہے پولیس کا کام ہے ملزموں پکٹرنہ نہ کے اُس کے سر کی قیمت لگا نا حکومت اپنی جیب سے رقم کا اعلان کیوں نہیں کرتی لاکھوں روپے تنخوہ لینے والے افیسروں کو کیوں رکھا ہوا ہے پولیس کا کام ہے ملزم کو پکٹر کر پیش کرے پولیس کی وجہ سے عوام کا اعتماد اس لیے ختم ہوتا جا رہا ہے جب بھی ملک میں کوئی سانحہ ہو تو فوری طور عوام افواج پاکستان کی طرف دیکھتی ہے اور انصاف مانگتی ہے چیف آف آرمی سٹاف جنرل کمر جاوید باجوہ سے اپیل ہے اس وقت ملکی حالات کے پیش نظر اپ کی گہری نظر اس وقت ملک پر ہے جس طرح کا واقعہ پیش آیا عوام چاہتی ہے افواج پاکستان ہماری امداد کرے نہ کے حکومت جس طرح ننھی پھول جسی گٹریا کے ساتھ ہوا پھر ایسا واقعہ نہ ہو جناب جنرل باجوہ کوئی آس ماں سے پوچھ کر دیکھے جس کی ننھی کلی نے پھول بنانا تھا ماں کو جب یاد آتا ہوگا میری بیٹی سکول جاتی تھی اور میں آس کو اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی تھی جب زینب کہتی ہو گی ماں میرے جوتے کہا ہے سکول کی وردی پہنا نا تیاری کروانا ماں مجھے کنگہا دہ ماں آج بھوک نہیں ہے تو اُ س کام کا کلجہ منہ کو آتا ہوگا میری بیٹی نے کھانا نہیں کھایادوپہر کو سکول سے واپس آنے سے پہلے ماں اپنی بیٹی کے لیے کھانا تیار کر کے بیٹھی ہوتی ہوگی باپ اپنی ننھی کلی کو دیکھ کر خوش ہوتا ہوگا جب زینب نے پہلی بار ماں کہا ہوگا بابا کہا ہو گا تو ماں باپ کیتنے خوش نظر آتے ہوگے جب زینب کی سہلیاں آس کے ساتھ کھلنے کے لیے آتی ہوگی تو ماں کیتنی خوش ہوتی ہوگی بیٹی کے پیدا ہوتے ہے ماں آس کے لیے تیاریاں شروع کر دیتی ہے اور سوچنا شروع کر دیتی ہے میری بے میری بیٹی کے نصیب دنیا میں سب سے اچھے ہو جب زینب ضد کرتی ہوگی ماں مجھے بھی اپنے ساتھ لیے چلو میں آپ کے ساتھ جاؤں گی ماں نے کہا ہو گا میں تیرے لیے واہں پر اچھی سی گڑیا لاوں گی ننھی زینب ماں کی باتوں پر خوش ہوگئی ہوگی جب ماں پاب سے سعودی عرب میں بات کی ہوگی تو پہلی بات زینب نے کہا ہو گا ماں میری گڑیا کہاہے بولنے والی گڑیا لیے کر آنا آج جب زینب اس دنیا میں نہیں ہے ماں کو اُس کی تمام باتیں یاد آتی ہوگی اپنی سہلیوں کو زینب نے بتایا ہو گا جب میری امی میری لیےے گڑیا لیے کر آئے گی جو اور کسی کے پاس نہیں ہوگی کاش ماں زینب کو عمرے پر ساتھ لیے کر جاتی اس ملک میں عزتوں کے لٹروں کو عمروں سے کوئی فرق نہیں پڑتا بس اُن کو اپنی ہواس پوری کرنی ہوتی ہے بہت سے پھول ایسے بھی ہیں جن کی مسکرا ہٹ ختم ہوگی ہے وہ ننھی پریاں جن کے کھلنے دن تھے اُن کو کس کی نظر لگ گی جو زندہ ہوتے ہوئے بھی اس حالات میں زندگی گزار رہی ہے جیسے کے کوئی زندہ لاش ہو ماں باپ اُس دن مر جاتے ہیں جس دن اُن کی بیٹی کی عزت کو کوئی اُوباش پاش پاش کر دیتا ہے ایوانوں میں موجود قانون بنانے والوں سے کیتنی اور زینب پکار پکار ایک سوال کر رہی ہیں ہمیں کب انصاف ملے گا لیکن افسوس یہاں کسی کو انصاف نہیں ملتا جن کو ملتا بھی ہے آن کی بولی لگا ئی جاتی ہے ایسا قانون تو کافر بھی نہیں مانتا ہم تو پھر بھی مسلمان ہیں ملک کے قانون کو اور مذاق مت بناو کب تک درندے ایسے ہی زینب جیسی کلیوں کی عزت سے کھلتے رہے

یہ بھی پڑھیں  عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید اسپتال میں داخل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker