تازہ ترینصابرمغلکالم

وزیر اعظم زرعی ایمرجنسی پروگرام۔پاکستان کی بنیادی ضرورت

وزیر اعطم عمران خان نے دھان کی پیساروار میں اضافہ کے منصوبہ کے تحت سب سے پہلے پنجاب میں وزیر اعظم زرعی ایمرجنسی پگروگرام کی منظوری دی ہے ابتدائی طور پر صوبہ کے 15اضلاع گوجرانوالا،گجرات،سیالکوٹ منڈی بہاؤالدین،ناروال،قصور،لاہور،حافظ آباد،شیخو پورہ،ننکانہ صاحب،فیصل آباد،جھنگ،چنیوٹ،بہاولنگر، اور اوکاڑہ کو شامل کیا گیا ہے اس پروگرام کے تحت متعلقہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے کاشکاروں کو جدید زرعی مشینری سرکاری سبسڈی سے سستے داموں دی جائے گی جس سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ یقینی ہو نے پر کسان خوشحال ہو جائے گا،اس حوالے سے کسانوں کو 27جنوری تک درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے مکمل جانچ پڑتال کے بعد20فروری کو قرعہ اندازی کے ذریعے زرعی مشینری ملے،وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا زراعت کے ھوالے سے یہ اہمت ترین اقدام وقت کی اشد ترین ضررت تھی،پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی مملکت ہے جس کی معیشت کا مجموعی انحصار ہی زراعت پر ہے مگر گذشتہ کئی دہائیوں سے اس اہم ترین شعبہ پر توجہ نہ دی گئی اور یوں دنیا بھر میں ہر سال کروڑوں ڈالر کی زرعی ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہو گئی،پاکستان کی قومی معیشت میں زراعت کا کردار 18.9فیصد ہے حالانکہ یہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہونا چاہئے تھا،ماضی کی نسبت زرعی رقبہ صرف کل رقبے کا صرف 29.7فیصد رہ گیا ہے،پہلے زراعت کی ٹوٹل آمدن پاکستان کی جی ڈی پی کا 24فیصد تھی جو سکڑ کر اور تنزلی کا شکار ہو کر محض19فیصد تک پہنچ چکی ہے جس میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے ایسے میں اس جانب حکومتی توجہ کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند ہے،سردار عثمان بزدار جس صوبے کی قیادت کر رہے ہیں اس کا موجود زرعی رقبہ 60فیصد ہے،پاکستان کی مجوعی آبادی میں سے زیادہ تر لوگ دیہاتوں میں آباد ہیں جن کا بنیادی روزگار کاشتکاری ہے اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس شعبہ میں کل آبادی کی42.3فیصد اسی پیشہ سے وابستہ ہے،شعبہ زراعت کی مزید ترقی و ترویج کے ئلے حکومت کو زرعی ایمرجنسی ملک میں پھیلا دینی چاہئے اور یہ ایمرجنسی اس وقت تک رہے جب تک اس کے حقیقی اہداف حاصل نہ ہو جائیں،بھارتی ریاست پنجاب میں انڈین حکومت کی انتہائی توجہ ہے وہاں کسانوں کو سستی بجلی،کھاد،بیج اور دیگر آلات بآسانی اور سستے داموں دستیاب ہیں یہی وجہ ہے بھارتی پنجاب اتنے بڑے ملک میں زرعی پیداوار کی ضروریات پورا کرنے میں اہم کردار کا حامل ہے،بھارتی پنجاب سے زرعی اجناس کی ملک بھر کی منڈیوں تک رسائی ہے اور کسان ہی کیا وہاں کی عوام کو بھی بہترین روز گار میسر ہے،ہم کبھی کپاس دنیا بھر میں برآمد کرتے تھے مگر اب اس قابل ہی نہیں رہے،ہمیں زرعی اجناس برآمد کرنے کی بجائے درآمد کرنا پڑتی ہیں،ملک بھر میں تمام سڑکوں،نہروں اور کھالوں کے ساتھ ملحقہ زمین وہاں کے لوگوں نے اپنے ساھت ملا کر نہ صرف محکمہ جنگلات کی نا اہلی اور رکپشن کی وجہ سے اربوں روپے کے درخت نگل لئے ہیں بلکہ لاکھوں ایکڑ رقبہ بھی انہی کے تصرف میں ہے ایسی روک تھام بنیادی طور پر ضلعی انتظامیہ کا کام ہے مگر انہیں اس حوالے سے ذرا یا د نہیں کہ ان کی ایسی ذمہ داریاں کیا ہیں اندازہ کریں ایک چھوٹا سا کھال جس کے دونوں جانب 8۔8فٹ جگہ سرکاری ہوتی ہے م،گر اس وقت کوئی بتلائے کہ ایسے کھال یا نال کے ساتھ دونوں اطراف ایک ایک فٹ تک حصہ نظر آتا ہے،حالانکہ اسی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین پر جنگلات لگا کر نہ صرف موسمی اثرات سے بچا جا سکتا ہے بلکہ قیمتی لکڑی بھی حاصل کی جا سکتی ہے،ماضی بلکہ اب بھی ہر سال شجر کاری مہم کا بڑے جوش و خروش سے آغاز کیا جاتا ہے لیکن در حقیقت ملک بھر میں شجر کاری نہیں بلکہ شجر کشی مہم سارا سال جاری رہتی ہے،وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار بنیادی طور پر ایک ہی بچ پر اور ایک ہی سوچ کے حامل ہیں ان کی جانب سے دھان کی فصل میں بہتر پیداوار کے حوالے سے وزیر اعظم زرعی ایمرجنسی پروگرام کا آغاز انتہائی خوش آئند ہے ایسے اقدامات ہی مستقبل میں ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،وزیر اعظم زرعی ایمرجنسی پروگرام کو صرف ایک ہی فصل تک رکھنے کی بجائے مسلسل اور ملک بھر میں رائج کرنا چاہئے،زرعی پیداوار میں بہتری سے ہماری قومی معیشت دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گی GDPکی شرح میں خوش آئند اضافہ ہو گا،روز گار کے ان گنت مواقع پیدا ہوں گے،عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ ہر سال گندم کی فصل کے اختتام پر سرکاری طور پر گندم کی خریداری میں با اثر مافیاز میدان میں نکل آتے ہیں حکومت ہر سال کاشکاروں کو ان کا اصل حق دلوانے کے لئے بہت حوصلہ افزا ء اعلان کرتی ہے مگر یہ لوگ کرپشن کا کوئی نہ کوئی طریقہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں،حالانکہ اگر وہی رقم کسان کو براہ راست ملے تو خوشحالی کا دور دورہ ہو جائے وفاقی و صوبائی حکوتیں کسی بہتر اور فول پروف طریقہ کار پر کام کا آغاز کر دیں،اس بارے میں،ملکی ترقی و بہتری کے لئے حکومت کئی پروگرامز پر عمل پیرا ہے اور کئی مزید آ رہے ہیں با الخصوص نوجوان جو ملکی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں کو خاطر خواہ ثمرات ملنے شروع ہو چکے ہیں،حکومت شعبہ زراعت میں مزید جدید ترین آلات اور سہولیات کو یقینی بنائے تاکہ ہم ترقی کی مشکل منازل آسان طریقے سے عبور کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker