پاکستان

صدرزرداری سے واشنگٹن میں ملاقات ہوئی تھی،منصور اعجاز

اسلام آباد(بیوروچیف) میمو گیٹ کے مرکزی کردار منصور اعجاز نے کہا ہے کہ صدر زرداری سے ان کی ملاقات واشنگٹن میں ہوئی تھی اس دوران بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے،میمو کمیشن نے منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ کے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق کے منصور اعجاز پر جرح پر اعتراض کو مسترد کردیابلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ،جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں میمو کمیشن کا اجلاس جاری ہے جب کہ وڈیو لنک کے ذریعے اٹارنی جنرل مولوی انوالحق نے منصور اعجاز پر جرح مکمل کرلی ہے۔ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی بھی لندن میں وڈیو لنک پر موجود ہیں۔جرح کے دوران اٹارنی جنرل نے منصور اعجاز سے پوچھا کہ کیا 5 مئی 2009 کو ان کی صدر زرداری سے نیو یارک میں ملاقات کا دعویٰ درست ہے ؟ جس پر منصور اعجاز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری سے ان کی ملاقات نیویارک میں نہیں، واشنگٹن میں ہوئی تھی جس میں ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔ اٹارنی جنرل نے منصور اعجاز سے استفسار کیا کہ کیا وہ امریکی ٹی وی سی این این کے لئے بھی مضامین لکھتے رہے ہیں، منصور اعجاز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ عید کے مواقعوں پر انھوں نے سی این این کے لئے لکھا ہے۔میمو کمیشن نے منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ کے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق کے منصور اعجاز پر جرح پر اعتراض کو مسترد کردیا۔اکرم شیخ کا موقف تھا کہ اٹارنی جنرل چونکہ عدالت میں وفاقی حکومت ، آرمی چیف ، ڈی جی آئی ایس آئی، وزارت داخلہ و خارجہ اور وزارت قانون کی جانب سے پیش ہوتے ہیں، اس لئے وہ کمیشن میں منصور اعجاز پر جرح نہیں کرسکتے۔ اٹارنی جنرل مولوی انورالحق نے اپنے موقف میں کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر میمو کمیشن کی مدد کے لئے حکومت کی جانب سے پیش ہور رہے ہیں۔ کمیشن نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کو منصور اعجاز پر جرح کی اجازت دیتے ہوے کہا کہ اٹارنی جنرل کمیشن کی معاونت کے لیئے موجود ہیں ، ان کو منصور اعجاز پر جرح کا حق حاصل ہے۔ کمیشن نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل کی جانب سے غیر متعلقہ سوال کیاجاتا ہے، تو منصور اعجاز کے وکیل ا کرم شیخ کو اعتراض کا حق حاصل ہے۔ حسین حقانی کے وکیل زاہد حسین بخاری نے کمیشن سے درخواست کی کہ حسین حقانی کا بیان اور ان پر جرح برطانیہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائے۔حسین حقانی امریکا سے برطانیہ آئے ہوئے ہیں اور بیان کے لئے دستیاب ہیں۔اُن کا موقف تھا کہ نکتہ حسین حقانی کی پاکستان آمد کا نہیں کمیشن کے سامنے دستیابی کا ہے۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ حسین حقانی سپریم کورٹ کے سامنے چار دن کے نوٹس پر پاکستان آنے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔ کمیشن انہیں پاکستان آنے کے لئے پندرہ روز قبل نوٹس دے چکا ہے ۔