پاکستانتازہ ترین

صدر زرداری صرف صدارتی کردار ادا کریں‘ نواز شریف

nawazلاہور(بیورو رپورٹ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے درخواست کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ وہ صرف صدارتی کردار ادا کریں اس سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں ورنہ وہ خود کو متنازعہ بنانے کے ساتھ انتخابات کو بھی متنازعہ بنا دینگے، انتخابات مؤخر کرنے کی شاید کوشش ہو رہی ہو لیکن انتخابات کو کسی بی صورت ملتوی نہیں ہونے دیا جائیگا، ماضی کے قصے ختم کرکے نئی صبح کا آغاز ہونا چاہیے۔ وہ گزشتہ روز الحمراء ہال میں خواجہ رفیق شہید کی برسی کے موقع پر تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر خواجہ سعد رفیق خواجہ آصف، غوث علی شاہ سینیٹر پرویز رشید، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، سپریم کورٹ بار کونسل کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر، سینئر صحافی حامد میر سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا اور تقریب میں شرکت کی۔ میاں نواز شریف نے خواجہ رفیق شہید کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ رفیق شہید نے اپنی تمام عمر اسی مقصد کیلئے وقف کی جو مقصد آج ہم سب کا ہے، حق حکمرانی عوام سے جنم لیتا ہے بندوق کی نالی سے نہیں، قائداعظم نے ہمیں پاکستان دیا لیکن بہت سے سال آئین بنانے اور جمہوری حکومت قائم کرنے میں ضائع کر دیئے انہی سالوں میں دو آمریتیں مقدر بنیں بالآخر مشرقی پاکستان سے محروم ہو گئے باقی 19 سال مزید دو آمریتوں کی نذر ہو گئے لیکن جو ملک قانون و جمہوری جدوجہد سے معرض و جود میں آیا انہی جمہوری حکومتوں کیلئے جیل کے دروازے کھول دیئے گئے۔ کیونکہ یہاں جو بھی قانون کی حکمرانی کی بات کرتا ہے اس کا مقصد گولی ہے جیسے اکبر بگٹی اور جلاوطنی کا منظر تو عوام دیکھ ہی چکے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ اگر سیاست کا راستہ اتنا ہی غلط تھا تو بانی پاکستان قائداعظم نے سیاسی جماعت کی سربراہی کیوں قبول کی، وہ بھی آئین ساز پارلیمنٹ کو استعمال کرنے کی بجائے وہ وائسرائے پر فوج کو لیکر چڑھائی کر سکتے تھے۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ اعلیٰ منزل کے حصول کیلئے دیوار پھلانگ کر منزل حاصل نہیں ہو گی۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ پانچ سال دل پر پتھر رکھ کر صبر کیا۔ آئین کو ٹھیک کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا لیکن اسمبلی میں نہ ہوتے تو شاید ایسا نہ ہو پاتا ایسا آزاد الیکشن کمشنر دیا جس پر حکومت سمیت پوری قوم کو اعتماد ہے، اسمبلی تحلیل ہونے کے تین دن کے اندر متوازن نگران حکومت قائم کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کروائی، انتخابات کو مؤخر، ملتوی یا سبوتاژ کرنے کی افواہیں سن رہا ہوں لیکن ایسا نہیں ہو گا، انہوں نے کہا کہ 2008ء کے انتخابات میں این آر او نے اپنا کام دکھایا۔جس کے نتیجے میں میرے، شہباز شریف اور ہمارے دوسرے کئی لوگوں کے کاغذات مسترد کر دیے گئے‘ انتخابات میں نگران حکومت، گورنرز، ناظمین، ایجنسیاں بلکہ خود مشرف سمیت ہمارے خلاف تھے ایسا کھیل کھیلا گیا لیکن آج تک دھاندلی کا شکوہ نہیں کیا‘ اس کے باوجود پنجاب میں حکومت اور مرکز میں مضبوط اپوزیشن بنائی۔ آج تک قومی اسمبلی کا ممبر نہیں ہوں لیکن ممبر شپ کو زیادہ اہمیت دے کر ملک کی خدمت نہیں کی جا سکتی‘ نواز شریف نے کہاکہ10 سال قبل کسی میں اسٹیبلشمنٹ، ایجنسیوں کے کردار پر تنقید کرنے کی جرات نہیں تھی نہ ہی کوئی فورسز کو ناراض کرنا چاہتا تھالیکن سب سے پہلے یہ جھنڈا مسلم لیگ (ن) نے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اگر 21ویں صدی کا ملک بنانا ہے تو صرف عوام کے ووٹوں کے ذریعے حکومتیں آنی جانی چاہیے‘ جلاوطنی، کال کوٹھری، ہتھکڑی لگوانا قبول کیا لیکن ڈکٹیٹر کے آگے نہیں جھکے‘ انہوں نے کہا کہ ملک میں واپس آئے تو نظریہ وہی تھا جو لیکر گیا‘ اگر جھک جاتا تو میرے ساتھ بھی این آر او ہو سکتا تھا‘ جدہ میں مشرف سے ملاقات اور عمرہ اکٹھا ادا کروانے کی بڑی کوششیں کی گئیں لیکن میں نے کہاکہ سیاست چھوڑ سکتا ہوں مشر سے بات نہیں کر سکتا‘ مشرف کے ججوں کو پاکستان کے دشمن کہا آج سب بھاگ گئے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان ،پنجاب سمیت پورے ملک میں کامیابی حاصل کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں  دل و نگاہ نہیں مسلمان تو کچھ بھی نہیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker