تازہ ترینحکیم شہبا ز انو رکالم

ضرورتِ انسانی اور مجبوریاں

ہر دور میں بنی نوح انسا ن کی کچھ نہ کچھ ضروریا ت ہو تی تھیں اور اب بھی ہیں۔ شر و ع شر وع انسان کی ضر و ر یا ت بہت ہی کم تر تھی۔ جن کو وہ با آسا نی سے پو را کر لیتا تھااگر اس کو اپنے پیٹ کی آگ کو ختم کرنے کی طلب محسو س ہوئی تو اس نے شکا ر کا سہارا لے کر پیٹ کی پو جا کی اور اگر اپنے تن کو ڈکنا چا ہا تو در ختوں کے پتے اوتا ر کر اس سے اپنے بد ن کو چھپا یا۔جیسے جیسے اس کے اند ر تمدن کا شعور پیدا ہو ا تو اس نے اپنی ثقا فت کو سدارنا چا ہا۔اپنے ارد گرد کے و ابستہ لو گوں کو ا کتھا کیا اور گروہ کی شکل میں رہنے لگے۔ اسی طر ح جو دوسرے لوگ الگ تھلگ زند گی بسر کر رہے تھے انہوں نے بھی مختلف گروہوں کو اپنا یا اور آپس میں پیا ر محبت سے رہنے لگے ۔ و قت آہستہ آہستہ گزرتا گیا گر ہوں نے قبیلے ،قبیلوں نے قصبوں کی شکل اختیا ر کی جوں جوں و قت گز ر تا گیا ہر شخص تر قی کی طر ف بڑھنے لگا ۔ آبا دی میں آضا فہ خو ب تر ہو ا اب قصبے شہروں میں تبدیل ہو ئے نظر آنے لگے ہیں ۔ جہاں آ با دی میں آضا فہ ہو تا گیا وہا ں جد ت کے سا تھ ساتھ انسا نی اختیا جا ت میں بھی بڑھنے لگی۔ انسان نے ان تما م ضر وریا ت کو پو را کرنے کے لیے کو ئی نہ کو ئی کام شر و ع کیا انسا ن ذہنی یا پھر جسما نی مشقت کے بعد جو معا و ضہ حا صل کر تاتھا اس سے وہ اپنی بیوی بچوں کا پیٹ پالتا اوراپنی دیگر ضروریا ت کو پوراکر تا۔کسی نے اپنے سرما یہ پر تجارت یا کو ئی دوسرا کام کیا اور کئی سر کار کے غلا م ہوئے ۔ ان لو گوں میں سے کچھ ایسے افر د بھی شا مل تھے جنہوں نے اپنے آنے والے کل کے با رے میں کچھ نہ سو چا جب پیٹ کی آگ تیز ہو ئی تو منفی طر یقہ اپنا یا ، کسی کو لو ٹ لیا یا پھر کسی سے چھین لیا۔ دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنے آپ کو چین میں پا یا ۔ تو یہا ں سے معا شر ے میں برا ئیوں نے جنم لینا شر و ع کیا ۔
میں اپنے قا ر ئین کو یہ بتا نا چا ہتا ہوں کے جب انسان کی قسمت میں ہی ٹھو کروں کے علا وہ کچھ نہ ہو تو وہ چا ہ کر بھی اس کو تبد یل نہیں کر سکتا ۔ فیا ض جو کہ پڑھا لکھا اِ ک نو جو ان ہے جو دیکھنے میں حسین اور اچھے اخلا ق کا ما لک ، گھر میں ایک بھا ئی اور ایک بہن سے بڑا ہے۔ان کے والدین نے ان تر بیت بڑے احسن طر یقے سے کر رہے تھے۔ابھی فیا ض تعلیم کو خیر باد کہنے ہی وا لا تھا کہ سر سے با پ کا سا یہ اُٹھ گیا اور لڑکپن میں ہی گھر کا تما م بو جھ اس کے سر پر گرِ پڑا۔ جن ہا تھوں نے کبھی کسی کام کو چُھو ا تک نہ تھا۔ آج وہ ہا تھ حا لا ت سے تنگ آ کر اپنے پیٹ کی خا طر مز دوری کرنے پر مجبور تھے اور مجبور کیوں نہ ہو تے چھو ٹے بھا ئی کی تعلیم اور بہن کے ہاتھ بھی پیلے کرنے تھے۔و قت گز ر تا گیا اور ضر وریا ت میں دن بد ن آضا فہ ہو تا گیا۔جب محنت و مشقت سے کام چلتا نظر نہ آیا تو کسی نو کری کی تلا س میں در در کی ٹھو کریں کھا نے لگا لیکن اپنی کو شش میں ناکام رہا اور ما یو سی کا سا منا کر نا پڑا۔گھر میں بڑا ہونے کی حیثیت سے تما م تر بو جھ اس پر تھا۔ بہن جوان ہو چکی تھی اور غر بت بھی ٹھا ٹھیں مار رہی تھی اوپر سے سما ج کی با تیں اس کو کمزور کر رہی تھی۔ جب وہ اپنے گھر کے حا لا ت کو بد لنے کی کو شش کر تا تو لڑ کھڑا گرِ پڑتا۔مزوری کر کے جو کچھ وہ گھر میں لا تا اند ھیرا ہونے سے پہلے ہی وہ سب کچھ خر چ ہو جا تا۔غر بت کے ہا تھوں مجبور ہو کرنا چاہتے ہو ئے اپنے چھو ٹے بھا ئی کو بھی مزوری کے لیے ساتھ لے جا تا ابھی عمر ہی کہا تھی اس بیچا رے کی کے کٹھن گھڑی کا سامنا کر پاتا۔ مگر و قت نے ان کو اپنے سا منے سر جھکا نے پر مجبور کر دیا تھا۔سماج کی باتوں سے بچنے اور اپنی بہن کے ہاتھوں کو پیلا کرنے کے لیے دو نوں نے اپنے خون کو پسینے کی ما نند بہاد یا اور بہت مشکل سے کچھ رقم جمع کی جس سے اپنی لاڈلی کے ہا تھ پیلے کیے اور اس کو اپنے شو ہر کے گھر رخصت کیا۔ ان کو کیا معلوم تھا کہ قسمت نے ہر طر ف سے ان کا سا تھ چھوڑ دیا ہے وہ یہ نہیں جا نتے تھے کہ ہم نے اپنی بہن کو جس کے ساتھ الوداع کیا ہے وہ زمانے کا نیچ اورگھٹیا قسم کا آدمی ہے۔ ابھی ہا تھوں کی مہند ی کا رنگ پھیکا نہیں پڑا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جو قبل از اسلام عور توں کے ساتھ کیا جا تاتھا ۔ جہا ں شو ہر نے بد اخلا قی مزہرا کیا تو وہاں نند نے جہیز کے تعنوں سے اس کا جینا محا ل کر دیا ۔ وہ یہ سب کچھ برداشت کر تی رہی لیکن ظلم کی بھی کو ئی حد ہو تی ہے سسرال کے ظلم و سِتم سے تنگ آ کر جب اپنے حق کی خا طر آواز اٹھا ئی تو بات طلا ق کی نو بت کو چھو نے لگی ۔ جب ما ں اور بھا ئیوں کو یہ خبر سنی تو ان کے لیے یہ کسی قیا مت سے کم یہ تھاابھی حسر توں کے سپنے بھو نے بھی نہیں تھے کہ شب غم کی لہر ٹو ٹ پڑئی ۔ اسی دوران چھو ٹے بھا ئی کو اک جان لیوا مر ض نے جکڑ لیااور علا ج معالجہ کے با و جو د اس کی صحت دن بدن نا زک ہو تی جا رہی تھی حتیٰ کہ ایک دن اس کے ننھے سے بھا ئی کو اس مر ض نے گہر ی نیند سیلا دیا۔ فیا ض اپنی قسمت سے لڑتے لڑتے شکت کھا چکا تھااورحا لا ت سے مجبور ہو کر اپنی زند گی کے با قی دن یونہی بسر کر رہا ہے۔
سو چنے کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں صر ف ایک ہی فر د نہیں نا جانے کتنے لو گ اس کشمش میں مبتلا ہیں کسی سے چھینا جا رہا ہے تو کو ئی خود اپنے ہاتھوں سے دینے پر مجبور ہے ۔کسی سے کچھ لیتے ہو ئے کبھی ان درندوں کے ذہن میں یہ سوال نہیں پیدا ہو ا کہ غر بت میں ڈنسے ہوئے شخص کے پا س اپنا پیٹ برنے کے لیے کچھ ہے یا نہیں اس کے بچوں کا کیا حا ل ہے۔ اس نازک سے دور میں بہت ہی کم ایسے افراد ہو ں گے جو پیٹ بھر کر دو وقت کی روٹی کھا تے ہوں ۔پچھلے کچھ عر صے سے یہ بات واضح ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے کہ امیر امیر تر ہو تا چلا جا رہا ہے اور غریب کے گھر کا چو لہ تک روشن نہیں ہو تا …

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:’’چور مچائے شور‘‘کے مصداق پیپلزپارٹی اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker