تازہ ترینطارق حسین بٹکالم

ذاتی پرخاش

TARIQ BUTTپاکستان کی تاریخ میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء نے جو لسا نی ،مذہبی اور سیاسی تفریق پیدا کی تھی وہ کئی عشرے گزر جانے کے باوجود بھی ختم نہیں کی جا سکی ۔اس تفریق نے پاکستان کے وجود اور اسکی بقا پر جسطرح کے سوالیہ نشان کھڑے کر رکھے ہیں اس سے ملک کی ایکتا اوراتحاد پارہ پارہ ہو کر رہ گیاہے۔ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی نے اس ملک کو جس بری طرح سے تقسیم کیا وہ بھی بیان سے باہر ہے۔پی پی پی پی کے سا تھ اسٹیبلشمنٹ اور دائیں بازو کی جماعتوں نے جسطرح کا بے رحمانہ سلوک روا رکھا تھا اس سے یہ جماعت بالکل تنہا ہو کر رہ گئی تھی۔اس جماعت کو عوامی حمائت تو حاصل تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ،فوج، بیوو کریسی اور مذہبی جماعتوں نے اس جماعت کو کبھی بھی دل سے قبول نہیں کیا جس کی و جہ سے یہ جماعت خفیہ ہاتھوں کی کارستانیوں کا نشانہ بنتی رہی ۔ جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء کے دست و بازو وہ لوگ تھے جو آج کل مسلم لیگ میں پناہ گزین ہیں اور جمہوریت زندہ باد کے کے نعرے بلند کر رہے ہیں ۔ اگر یہ سلسلہ جنرل ضیا الحق کی حمائت کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہو جاتا تو پھر بھی کوئی بات تھی اور اسے ان افراد کی پہلی غلطی سمجھ کر معاف کر دیا جاتا لیکن جب جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیااور ملک پر ایک دفعہ پھر مارشل لاء کا نفاذ کر دیا تو یہ سارے جمہوری چیمپین ملکی مفاد کا نعرہ بلند کر تے ہوئے جنرل پرویز مشرف کی گود میں بیٹھ گئے اوراسے پاکستان کا نجات د ہندہ قرار دینے لگے اور جمہوریت سے ان کی محبت کا بھانڈہ چوراہے میں پھوٹ گیا کیونکہ انھوں نے جمہوری قوتوں کا ساتھ دینے کی بجائے خود کو مارشل لائی چھتری کے نیچے زیادہ محفوظ تصور کیا اور اپنا مستقبل فوجی جنتا کے ساتھ نتھی کر لیا۔انھوں نے مارشل لاء کی حمائت ذاتی منفعت کیلئے کی تھی اس میں ملکی مفاد یا ملکی یکجہتی کا کوئی سوال نہیں تھا۔ اقتدار ان کی کمزوری تھا اور اس کمزوری کا علم فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی تھا لہذا دونوں گروہوں کو سودے بازی میں بڑی آ سانی رہی اور یوں باہم شیرو شکر ہو کر دونوں ملک کا بیڑہ غرق کرتے رہے۔
موجودہ پارلیمنٹ کا بنظرِ غائق جائزہ لیں تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ اسمبلی میں اکثریتی ارکان کسی نہ کسی انداز میں مارشل لائی نظام کے حامی،حواری اور خوشہ چین رہے ہیں۔انھیں اپنی موقع پرستی ،حماقت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بے جا حمائت پر کبھی بھی ندامت نہیں ہوتی کیونکہ وہ دل سے جمہوریت نواز نہیں ہیں لہذا ندامت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ان کے ہاں اقتدار کا حصول ہی ان کی پہلی ترجیح ہے اور اس کو پانے کیلئے ان کے ہاں فوجی،غیر فوجی،جمہوری ،غیر جمہوری کا کوئی تصور نہیں ہے۔یہ سارے کے سارے افراد آئین کی کلاز چھ(۶) کی زد میں آتے ہیں کیونکہ آئین کی روح کے مطابق آئین کو پامال کرنے والا اور اس پامالی میں طالع آزماؤں کی حمائت کرنے والا بر ابر کے مجرم ہیں۔صورتِ حال بڑی دلچسپ ہو گئی ہے کیونکہ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ ؁ کو آئین شکنی کا ارتکاب کرنے والا جنرل پرویز مشرف اس وقت پاکستان میں زیرِ حراست ہے اور میاں محمد نواز شریف اس کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کر چکے ہیں۔میں ا س بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اگر جنرل پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلے گا تو پھر اس سے پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور موجودہ پار لیمنٹ کے مہم جو ممبرانِ اسمبلی کیسے بچ پائیں گئے؟اگر جنرل پرویز مشرف کو سزا ہو جاتی ہے تو پھر عدلیہ بھی اس کی لپیٹ میں آجائیگی اور موجودہ ممبرانِ اسمبلی کو بھی کوئی نہیں بچا پائیگا۔اس کا ایک آسان حل تو یہ ہے کہ غداری کے مقدمے کی کاروائی کا آغاز ۳ نومبر سے کیا جائے تا کہ عدلیہ اور ممبران اسمبلی بالکل محفوظ ہو جائیں اور صرف جنرل پرویز مشرف ہی اس غداری میں مجرم بن کر اپنے انجام سے دوچار ہو جائیں ۔دنیا اتنی اندھی بھی نہیں ہے جتنا اسے سمجھا جا رہا ہے۔ دنیا اپنی کھلی آنکھوں سے یہ سارا تماشہ دیکھ رہی ہے اور اس کھیل کے سارے کھلاڑیوں کی چال بازیوں کو بڑے غور سے دیکھ رہی ہے۔یاد رہے زمانے کو بیوقوف بنانے والا ایک دن خود بھی بیوقوفوں کی صف میں کھڑا ہو جاتا ہے۔اس بات کا علم تو اندھوں کو بھی ہے کہ منتخب حکومت کے خلاف شب خون ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ ؁ کو مارا گیا تھا اور ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر جمہور یت کی بساط لپیٹی گئی تھی لہذ ا یہ کیسے ممکن ہے کہ ۱۲ اکتوبر والے اصلی واقعے کو تو پسِ پشت ڈال دیا جائے لیکن ۳ نومبر کو جب ایمر جینسی لگائی گئی تھی اس کو بنیاد بنا کر جنرل پرویز مشرف کو غداری کے مقدمے میں ٹانگ دیا جائے جبکہ عدالت نے اسے جائز قرار دیا تھا۔ایمرجنسی لگانا صدر کا آئینی حق ہے لیکن اس ایمر جنسی کو غیر آئینی قرار دینا عدلیہ کا حق ہے۔کیا کسی بھی ایمر جنسی کے بعد مجاز اتھارٹی غدار ی کی مرتکب ہو جاتی ہے سمجھ سے بالا تر ہے ۔ہندوستان میں اندرا گاندھی نے بھی ایمر جنسی لگائی تھی جسے سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دے ڈالا تھا ۔ اندرا گاندھی پر نہ تو غداری کا مقدمہ چلا اور نہ ہی اسے جیل کی ہوا کھانی پڑی کیونکہ ایمر جنسی لگانا اسکا آئینی حق تھا۔ذولفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ا یمر جنسی نافذ رہی لہذا ثا بت ہوا کہ ایمرجنسی نافذ کرنا کوئی خلافِ آئین فعل نہیں ہے۔ہاں عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایمرجنسی کے حکم کو کالعدم قرار دے ڈالے اور اس کے نفاذ کو غیر آئینی کہہ کر سارے فیصلوں کو نافذ العمل ہونے سے روک دے ۔
ہمارے ہاں جو بات سب سے زیادہ تشویشناک ہے وہ یہ ہے کہ ہم ذاتی مخالفت کو آئین و قانون کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کرتے ہیں اورذا تی حساب کتاب بے باق کرنے میں بڑی راحت محسوس کرتے ہیں اور ایسا کرتے وقت ہم بھول جاتے ہیں کہ ایک د ن ایسا بھی آ سکتا ہے جب ہم اقتدار کی مسند پر نہیں ہو ں گے، بالکل بے اختیار ہوں گئے اور کوئی ہمارے حکم پر سرِ تسلیم خم کرنے والا نہیں ہوگا اور ہم پر بھی انصاف اور قانون کا اطلاق ہو گا ۔سب کو اس وقت سے ڈرنا چائیے جب حاکموں کی اپنی حیثیت ختم ہو جائیگی اور انھیں ان کے فیصلوں اور اقدامات کی بنا پر یاد رکھا جائیگا۔عدلیہ اگر خود کو پابندِ سلاسل کئے جانے پر زخم خوردہ ہے اور اس کا بدلہ چکانا چاہتی ہے تو اس کیلئے بھی ذاتی انتقام کی بجائے آئین و قانون کی راہ اپنانا ہوگی۔دوسروں کو شکنجے میں کسنے میں بڑا لطف آتا ہے لیکن جب اپنے پاؤں میں کانٹا چبتا ہے تو بڑا درد ہوتا ہے۔پہلے اس بات کا فیصلہ تو ہو جائے کہ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ ؁کا اقدام زیادہ بڑا تھا یا ۳ نومبر کا فعل زیادہ سنگین تھا ؟ کیا چیف جسٹس کی حیثیت منتخب وزیرِ اعظم اور پارلیمنٹ سے بالاتر ہے ؟اگر اس کا جواب نفی میں ہے توپھر ہمیں پہلے ۱۲ اکتوبر کے طالع آزما اور اس کے حمائییوں کی فہر ست مر تب کرنی ہوگی اور انھیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرٹا ہوگا۔اپنی طاقت کا زعم تو اس عدلیہ کو بھی تھا جس نے ذولفقار علی بھٹو کا مقدمہ سنا تھا اور انھیں پھانسی کی سزا تجویز کی تھی۔جسٹس مولوی مشتاق حسین کو بھی تو ذولفقار علی بھٹو سے ذاتی پر خاش تھی اور اسی پرخاش میں اس نے انصاف کا خون کر دیا تھا۔پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر کو سزائے موت سنا ڈالی تا کہ اس کی انا کی تسکین ہو جائے۔ جسٹس انوارالحق بھی اسی راہ کا را ہی تھا اور ذاتی انتقام پر اتر آیا تھا۔ کیا انھوں نے عدلیہ کے قائم کردہ معیار کی پرواہ کی تھی ؟کیا انھوں نے یہ سوچا کہ عادل کے منصب کے تقاضے کیا ہیں،؟کیا انھوں نے ذاتی پرخاش کو مقدمے سے دور رکھا؟ کیا انھوں نے ایک معصوم کو ذاتی انتقام کی بھینٹ چڑھاتے وقت یہ سوچا کہ یہ پاکستان کا پہلا منتخب وزیرِ اعظم ہے اور کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ان کے سر پر ذاتی انتقام کا بھوت سوار تھا اور وہ اس کے سامنے دو زانو ہو چکے تھے۔جب انتقام کی خو ایک دفعہ دل و نگاہ پر قابض ہو جاتی ہے تو پھر انسان دیکھنے سننے کی قوت سے معذور ہو جاتا ہے۔اپنے مخالف کو مٹانا ہی اس کا ہدف قرار پاتا ہے ۔وہ یہ ہدف حاصل تو کر لیتا ہے لیکن اس کے بعداس کا نام ایک گالی کی شکل اختیار جاتا ہے اور خلقِ خدا اس پر طعن وتشنیع کے تیر برساتی رہتی ہے ۔پاکستانی عدلیہ میں مولوی مشتاق حسین اور جسٹس انوا رالحق دو ایسے نام ہیں جوذلت و رسوائی کی علامت بنے ہوئے ہیں اور جب تک پاکستان قائم رہیگا ان کی اس حیثیت میں کوئی تبدیلی واقعہ نہیں ہو گی کیونکہ انھوں نے عدلیہ کی مسند پر بیٹھ کر انصاف کاخون کیا تھا۔اور خون بھی اس لیڈر کا کیا تھا جو عوامی امنگوں کا ترجمان تھا اور جس سے خلقِ خدا دل و جان سے محبت کرتی تھی۔۔(جاری ہے)۔note

یہ بھی پڑھیں  بھارت کا چہرہ بے نقاب، کشمیر میں کل سے 6 ماہ کیلئے صدارتی راج نافذ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker