تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

’’زاویۂ التفسیر‘‘

قبل اس کے سہ ماہی التفسیر کا ذکرکیا جائے ، اچھا ہوگا کہ میں صاحبِ تفسیر کے متعلق چند باتیں قرطاسِ قلم کروں۔محترم اوجؔ صاحب شعبہ علومِ اسلامی کے استاذ ہیں۔ فروری 2012 ؁ء میں انہیں صوبہ سندھ کے گورنر محترم جناب عشرت العباد خان صاحب نے کلیہ معارفِ اسلامیہ کا ڈین مقرر کیا اور جب سے وہ اپنی خدمات ایک قابلِ قدر استاد کے ساتھ ساتھ رئیسِ کلیہ کے طور پر بھی بخوبی نبھا رہے ہیں۔موصوف اوج ؔ صاحب کو جامعہ کراچی کے وائس چانسلر صاحب نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ایک اور اضافی ذمہ داری سے بھی نوازا ہے یوں موصوف اب سیرت چیئر ، جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔14اپریل 2012 ؁ء کو کلیہ معارفِ اسلامیہ کے توسط سے ایک روزہ نیشنل کانفرنس باعنوان Islam is the only solution of the challenges faced in the present eraکا انعقاد بھی فیکلٹی کے ریسرچ کارنر میں کیا گیا جس کے مہمانِ خصوصی بھی پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج ؔ صاحب تھے ۔ جو لوگ ’’صاحبِ تفسیر ‘‘اور ’’سہ ماہی التفسیر ‘‘سے تعلق رکھتے ہیں ان کے لئے میں فلسفی شاعر علامہ اقبال کا یہ شعر نظرِ قارئین کرنا چاہوں گا تاکہ بات مختصر ہو اور سمجھنے میں بھی کوئی دِقّت نہ ہو۔
تیرا وجود! رواجوں کے اعتکاف میں ہے
میرا وجود! تیرے عین، شین، قاف میں ہے
اس وقت میرے ہاتھوں میں سہ ماہی مجلہ التفسیر ’’شخصیات نمبر‘‘ ہے جو کہ خالصتاً علمی، فکری و تحقیقی مجلہ ہے۔ یہ مجلہ سہ ماہی بنیادوں پر 2005 ؁ء سے شائع ہو رہا ہے اور اس مجلے کے گراں قدر شائقین ہر چھپنے والے مجلے کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج ؔ صاحب اس کے روحِ رواں ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ شخصیت اسلامی موضوعات کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔موصوف کی تحقیق حقوقِ نسواں پر ہو یا وضو سے لیکر کسی بھی خاص نقطے تک ان کی تحریر کا ثانی نہیں ہوتا۔ کیونکہ قرآنی تقاضوں کی روشنی میں ان کی تحریر یں اس قدر دلچسپ اوردل کو موہ لینے والی بن جاتی ہیں کہ کوئی استاد ہو یا شاگرد، محقق ہو یا تحقیق کار سبھی کے دل کو چُھو لیتیں ہیں، کیونکہ آپ بحرِ علم کے شناور اورباالخصوص اپنے متعلقہ مضامین پر کامل دست گاہ رکھتے ہیں۔ پیچیدہ ومُغلق فقہی مسائل ہوں یا دقیق و مشکل تفسیری مقامات و نکات‘ آپ اپنی دقیقہ سنجی اور نکتہ رسی کے تمام ساز و سامان بروئے کار لاکر علم و فن کی ہر الجھی ہوئی گتھی کو نہایت ہنرکاری سے سلجھانے پر ماہرانہ دسترس رکھتے ہیں۔ہمارے اس گھٹن زدہ اور تنگ نظر ماحول میں ڈاکٹر صاحب ہوا کا تازہ جھونکا ہیں جو نہ صرف طلبا و طالبات کو ترو تازہ رکھتا ہے بلکہ ان سے ملاقات کے بعد آپ کی سوچوں کا رُخ بھی تبدیل کر دیتاہے۔ ان کے ہاں قرآن کریم کو ایسے بنیادی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے جو اپنی دلالت میں قطعی ہے۔ اس لئے وہ کسی ایک آیت سے استدلال نہیں کرتے بلکہ اس مضمون کو دوسری تمام آیات کا مطالعہ پیش کرتے ہوئے قرآن کریم سے ہی احکام کا استنباط کرتے ہیں۔
فیکلٹی کے مجلہ ’’ معارفِ اسلامیہ ‘‘ کے ایڈیٹر انچیف بھی صاحبِ تفسیر ہی ہیں۔ انہوں نے اپنے علمی میدان میں نہ صرف عمدہ تحریریں لکھی ہیں بلکہ اس ہُنر کے ذریعے ملک گیر شہرت بھی حاصل کی ہے ۔یہ سچائی بیان کرنابے جا نہ ہوگا کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد شکیل اوجؔ صاحب گذشتہ چار سال سے جامعہ اسلامیہ کو رے وال ٹرسٹ (لائنز ایریا) کراچی میں قائم اسلامک ریسرچ اینڈ فقہی کونسل کے صدر ہیں، جس میں پوچھے جانے والے متعدد فتوؤں کے جوابات بھی آپ ہی لکھتے ہیں۔
جہاں تک مجلہ التفسیر کا تعلق ہے تو میں نے پورے رسالے کا اوّل تا آخرمطالعہ کیا ۔بلاشبہ ان کی ادارتِ اعلیٰ نے’’ التفسیر ‘‘روز بروزنکھرتا جا رہا ہے،تمام مضامین بڑی اہمیت اور افادیت کے حامل ہیں،رنگِ خیال، خواجہ غلام فرید آف کوٹ مٹھن، حد درجہ معلوماتی ہیں،اسکے علاوہ جو بھی مضامین شاملِ مجلّہ کئے گئے ہیں وہ ’’التفسیرکی افادیت میں اضافہ کررہے ہیں۔ سر سید احمد خان پر مضمون بہت محنت اورتحقیق سے لکھا گیا ہے ،ایسے مضامین بار بارقارئین کے سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ اکابرِ ملّت کی تاریخ نئی نسل کے سامنے مستحضر رہے۔جن علمی و فکری شخصیات پر نامہ فرسائی کی گئی ہے ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ ؒ ، امام الحرمین الجوینی الشافعی ؒ ، قای بدر الدولہ، سر سید احمد خان، خواجہ غلام فرید آف کوٹ مٹھن ، علامہ اقبال، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا عبد الرؤف دانا پوری، ڈاکٹر محمد رفیع الدین، سید ابو الاعلیٰ مودودی، مولانا مفتی محمود، علامہ محمد حسین طبا طبائی، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، علامہ سید احمد سعید کاظمی، علامہ محمد اسد، جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری، مولانا ابو الحسن علی ندوی، مولانا عبد الرشید نعمانی، ڈاکٹر محمد عبد اللہ، مولانا گوہر رحمان، مولانا شاہ احمد نورانی، صوفی، عبد الحمید سواتی، ڈاکٹرا سرار احمد، پروفیسر علی محسن صدیقی، ڈاکٹر فضی الرحمٰن ۔
مشمولات میں عنوانات کی ترتیب بہت عمدہ ہے اور بہت سلیقے سے کی گئی ہے۔عام قارئین حضرات بھی التفسیر کا شخصیات نمبر پڑھنے کے بعد اظہارِ رائے میں یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ یہ ایک ایسا رسالہ ہے،جس کا ہر مضمون لائقِ مطالعہ ہے ۔سہ ماہی’’التفسیر‘‘ کا شخصیات نمبرموصوف کی کمال محبت کا انمول نمونہ ہے ،سرِ ورق کے بغیر کوئی بھی کتاب، رسالہ، مجلہ مکمل نہیں ہوتا اور التفسیر کا سرِ ورق بھی خوبصورت رنگ اور بہترین کاتب نگاری کا خزینہ لگتا ہے۔ اردو اس ملک کی اساس اور اس کی اکائیوں کو یکجا کرنے کے لیے پُل کا کام کر رہی ہے۔ ۱۹۷۳ء کے آئین میں اردو کو قومی زبان تو قرار دیا گیا لیکن حقیقت تلخ ہے کہ اسے اس کا مقام نہیں دیا گیا، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو کو ہر شعبہ ہائے زندگی میں حقیقی قومی زبان کا درجہ دلوایایہ جملہ اس لئے لکھنا پڑا کہ ہمارا التفسیر بھی اردو زبان میں ہی اپنے جلوے بکھیر رہا ہے۔ڈاکٹر اوجؔ نے ’’التفسیر کے’’ شخصیات نمبر‘‘کے معیار کو برقرار رکھا ہے۔ ملکی تعلیمی اداروں اور اردو کے نامی گرامی محققین اورمعماروں کے مضامین اس کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کر گئے ہیں۔حواشی و حوالہ جات کے ساتھ ان کے مضامین اور بھی وقیع بن گئے ہیں۔ پروف کی تمام غلطیوں پر خوب نظر رکھا گیا ہے ورنہ تحریر کا حسن گہنا جاتا۔
التفسیر ان تحریروں کی بنیاد پر نہ صرف ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اسے بطور حوالہ بھی پیش کیا جا سکتا ہے ، آج مطالعہ کی عادت ہی ہم سب خاص کر نئی نسل کو درست سمت میں سفر کرنے میں معاون ہو سکتا ہے ، خدا سے دعا ہے کہ یہ پرچہ اسی آب و تاب سے شائع ہوتا رہے۔

یہ بھی پڑھیں  ڈیرہ اسماعیل خان:دیوارکے تنازعہ پرپولیس کی مظاہرین پرفائرنگ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker