تازہ ترینذیشان انصاریکالم

منشیات

جون کو دنیا سمیت پاکستان بھر میں منشیات کے خلاف عالمی دن منایا جائے گا۔ اس دن کا آغاز 26جون 1987 کو ہوا، اس دن کی مناسبت سے میرج ہالوں ، سکولوں اور کلبوں میں سیمینار کا انعقاد ہوگا یاعوامی گزر گاہوں کو بند کرکے حکومت یا سول سوساہٹی کی طرف سے واک کا انعقاد کیا جا ئے گا؟ اس کا پتہ تو 27 جون کے نیوز پیپروں سے لگے گا۔کیا26 جون کے بعد پاکستان و دنیا سے منشیات کا خاتمہ ہوجائے گا؟ یا منشیات کا استعمال میں اضافہ ہوگا؟ عوامی رائے کے نزدیک اس دن کے حوالے سے کی جانے والے تقریبات سے منشیات کے سور میں اضافہ ممکن ہے کمی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ 31 مئی کوتمباکو نوشی کے عالمی دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں عوامی آگاہی کیلئے سیمینار و ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا اثر عوام پر یہ ہو کہ جو ایک ڈبہ سگریٹ استعمال کرتا تھا ، اس نے سگریٹ کی طلب میں اضافہ کرتے ہوئے 22-25 سگریٹ پینا شروع کردیئے۔ اس وقت دنیا بھر میں تقریبا ایک ارب سے زیادہ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں ، جس کی بدولت ہر 6 سیکنڈ بعد دنیا سے ایک تمباکو نوشی کا عادی شکار اس جہاں سے رخصت ہوجاتا ہے۔ جبکہ دیگر نشوں کی بدولت سالانہ 2 لاکھ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔مزید برآں اس وقت پوری دنیا میں تقریبا 3 کھرب 22 ارب امریکی ڈالر کی منشیات کی تجارت ہوتی ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستا ن میں ہیروئن کے شکارکل افراد میں 43% بے روزگار، 26% روزگار ہیں، مزید برآں 22% معمولی کام کاج، 18% خاندانی معاونت 16% بھیک مانگ کر 13 % منشیات کا کاروبار کرکے اور 11% چھوٹی موٹی چوریاں کرکے اپنی منشیات کی لعت پوری کرتے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے ایک اندازے کے مطابق 2010میں 90 لاکھ افرادمنشیات کا شکارتھے جس میںسے1.5 لاکھ افیم، 7لاکھ پچاس ہزار کوک ہیروئن، 2 لاکھ انجکشن کے ذرایعے نشہ کی عادت پوری کرتے ہے۔ اس کے علاوہ ہر سال 0.6 ملین لوگ ایسے کلبوں کا حصہ بنتے ہیں جہاں منشیات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں نوجوان نسل منشیات کا استعمال Fashion کے طور پر کرتے ہیں، یہ رواج دیہات کی نسبت شہروں میں زیادہ ہے۔ ماضی میں چرس، ہیروئن، شراب و دیگر منشیات کا استعمال ہی نوجوان نسل کی بربادی کا ذرائع تصور کیا جاتا تھا ، مگر آج کل انسانی جانوں کو بچانے والے ادوایات کا استعمال بھی نشے کی لعت کو پورا کرنے کیلئے استعمال ہورہی ہیں۔ جگہ جگہ قائم میڈیکل سٹور کف شربتون اور انجکشن کی فروخت سرعام کررہے ہیں۔ یہ ذرائع نشے کے حصول کیلئے قدر آسان ہے کیونکہ پولیس اس کے خلاف کارروائی بھی نہیں کرسکتی۔ بیشتر اوقات کف و الرجی کی ادوایات کا حصول مریضوں کیلئے محال ہوجاتا ہیں اور ان کو بلیک میں ادوایات خریدانا پڑتی ہیں۔ ٓآخر کا ر معاشرے کے باعزت شہری منشیات کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ والدین نگرانی نہیں کرتے؟ سکولوں و کالجوں میں اساتذہ اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا نہیں کرتے؟انتظامیہ اپنے فرائض میں غفلت برتتے ہیں؟راقم کے نزدیک نشے کے پھلائو میں معاشرے کے تمام طبقے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ پرائیویٹ کالجوں و سکولوں میں باقاعدہ طور پر Smoking Areas بنے ہوئے ہیں جہاں بیٹھ کر تمام student تمباکو نوشی کرسکتے ہیں جبکہ سرکاری سکولوں میں تو سارا سکول ہی Smoking Area ہو تا ہیں جہاں قوم کے معمار کیا استاتذہ تمباکو نوشی کرتے نظر آتے ہیں۔ راقم کے شہر میں منشیات کا استعمال اس قدر ہوتا ہے کہ بچہ بچہ اس کی گواہی دے سکتا ہے، مگر نشے کے عادی شکارمریضوں کیلئے2000 بشیر احمد ناز کی زیر قیادت آس سنٹرکے نام سے ایک علاج گاہ کا آغاز ہواجہاں پر ابتک4500 سے زائدمنشیات ﴿ہیروئن، چرس، شراب، پنگ وغیرہ﴾ کے عادی مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ ہسپتال کی انتظامیہ 2 ماہ کے علاج کا 10-12 ہزار چارج کرتی ہے۔ بیشک یہ راقم ادا کرنا غریب خاندانوں کیلئے ناممکن ہے لیکن اگر گورنمنٹ و مخیر حضرات تعاون کرئے تو ڈسکہ سے منشیات کے عادی مریضوں کا علاج ممکن ہوسکتا ہے۔ بیشک ہرفلاحی کام کرنے کی ذمہ داری گورنمنٹ و مخیر حضرات کی نہیں بلکہ معاشرہ کے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ منشیات کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرئے۔ نشہ سے انکار زندگی سے پیار والدین کو چاہیے کہ بچوں کی درسگاہوں کا دورہ کرئے اور اگر وہ استاتذہ کو منشیات استعمال کرتے پائے تو ان کے خلاف درخواست اعلٰی احکام کو کرئے ، تاکہ قوم کے مستقبل کے معمار کی تربیت نشے سے بچائو کی ہوسکئے ناکہ مستقبل کے نشیوں کی۔استاتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو منشیات کے خلاف لیکچر کا انعقاد کرئے تاکہ قوم کے معمار نشے کی بدترین زندگی کے نقصانات سے آگاہ ہوسکئے ۔انتطامیہ کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد منشیات کے خلاف بنائے گئے قوانین کو عملدآمد کروائے۔

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:مرکزی انجمن تاجران کے صدرکی والدہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker