ذیشان انصاریکالم

جمہوریت ،جمہوریت ،جمہوریت

بدترین لوڈشیڈنگ، تیل و گیس کی قیمتوں میں بد ترین اضافہ، بے روزگاری، سرکاری اداروں کی تباہی کے عوامی گفٹ کے بعد،ایک طرف عوام کو اپنے بچوں کے خالی پیٹ بھرنے کیلیئے خوراک مہیا نہیں آرہی تو دوسرے طرف سیاستدان ٹاک شوز و جلسوں میں جمہوریت کا راگ بجاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ جب نادان بھوک سے مارے بچے ٹی۔وی پر سیاستدانوں کو میک اپ لگا کر جمہوریت کی حفاظت پر گھنٹوں بحث کرتے سنتے ہوگئے تو کیا والدین سے سوال نہیں کرتے ہونگئے کہ یہ جمہوریت کس جن، بھوت یا پری کا نام ہے، جو اگر ناراض ہو تو ہمیں کھانا نہیں ملتا اور اگر خوش ہو تو پیٹ میں جگہ نہیں ہوتی کھانے کیلیئے؟
خیر یہ تو سوال نادان بچوں کے ہونگئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ بد قسمتی سے ترقی پزیر ممالک میں عوام جمہوریت کا رونا تو سنتے ہیں لیکن نصیب نہیں ہوتی،حکومت جمہوریت کو ٹول دینے اور اپوزیشن حصول کا نعرہ بلند کیئے ہوتے ہیں۔
جمہوریت عربی زبان کے لفظ جمہور سے لیا گیاہے جس کے معنی عوام ہوتے ہیں، جمہوریت کو انگریزی میں Democracy کہا جاتا ہے، جو دو یونانی الفاظ Demos ﴿عوام﴾  اور Karatos ﴿حکومت یا اقتدار﴾ سے اخذ کیا گیا ہے۔ لہذا لغوی طور پر جمہوریت سے مراد ایسی حکومت ہے جس میں اقتدار کی حقیقی مالک عوام ہوتی ہیں ۔ مختلف شہرآفاق مفکروں نے اس طرح کی ہے۔
گیٹل:۔ جمہوریت ایک ایسی حکومت ہے جس میں حکمران جماعت پوری قوم کے بڑے حصے پر مشتمل ہوتی ہے۔
Ibraheam Lincon (X-USA President):- Government of the People, For the People, By the People
اگر غیر جانبدارنہ پاکستانی حالات کا تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہو گاکہ قیام پاکستان سے تا حال عوامی حکومت کے خواب ہی عوام کو دیکھنے کو ملئے، اس کی تعبیر تا حال نہیں ہوئی۔ موجودہ حالات میں بھی سارا پاکستان بد ترین لوڈشیڈنگ میں گھیرا ہوا ہے، کاروباری زندگی مفلوج ہوچکے ہیں، جگہ جگہ اجتجاج ، جلوس اور پریس کانفرنس ہورہے ہیں ، ہر سیاستدان دوسرے پر Blame Game کھیل رہاہے۔
پاکستانی جمہوریت کی ترجمانی علامہ اقبال کاایک شعر کرتا ہے، یقینی طور انہوں نے یہ شعر پاکستان کے مستقبل پر نہیں لکھا ہوگا، کیونکہ وہ پاکستان کا مستقبل ایک خوشحال ریاست کے طور دیکھا کرتے تھے، جہاں سیاست کاروبار نہیں خدمت کا دوسرا نام ہوگئی۔
ّجمہوریت ایک طرز حکومت ہے جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
قارئیں پاکستان میں جمہوریت صرف اس وقت آسکئی گئی جب یہاں عوامی حکومت آئے گئے، جو عوامی نمائندگی کا مظاہرہ ایوانوں میں کرئے ۔ یہ امر اس وقت ممکن ہیں جب پاکستان میں شرح تعلیم75% کی حد عبور کر جائے اور عوام الیکشن کے دن اپنے ووٹ کا درست استعمال کرئے۔ سیاسی جماعتیں اپنے فیصلوں میں اپنے ممبروں کو بھی شامل کرئے، نہ کہ جاگیر داروں ، سرمایہ داروں اور سفارشی لوگوں کو۔ پاکستان کا المیہ ہے کہ جماعت اسلامی کی بجائے کوئی سیاسی جماعت اپنی قیادت کے انتخاب میں ممبروں کو ووٹ کا حق نہیں دیتی اور قیادت پر صرف اور صرف ایک فیملی کی گرفت ہوتی ہیں۔
عوام کو چاہے کہ وہ پریشر گروپ بناکر سیاسی جماعتوں پر زور ڈالئے کہ وہ سیاسی جماعت کی لیڈرشپ میں عوامی نمائیندوں کو بھی شامل کرئے، تاکہ عوامی مسائل کی آواز ایوان اقتدار کی فضائوں میں بھی سنی جاسکئے۔  اور جب سیاسی جماعتیں عوام کو حکومت میں شامل کرئے گئے تو عین ممکن ہیں کہ USA, UK, Europe کی طرح پاکستان میں بھی عوام کو جمہوریت نصیب ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں  ’’سونامی یا بدنامی‘‘

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker