تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

ذرائع ابلاغ کی آزادی ۔۔۔معاشرتی ذمّہ داری

zafar ali shah logoصحافت جِسے کسی بھی ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ بِلاشبہ کِسی بھی ریاست ، معاشرہ، اور مُلک و قوم کی ترقی ، خوشحالی ، قوموں کے عروج و زوال ، مفادِ عامہ اور کسِی بھی حوالے سے عوامی شعور اور آگاہی کو اُجاگر کرنے میں صحافت کا کلیدی کِردار ہوتا ہے ۔ بشرطیکہ شُعبہ صحافت کسی بھی قدغن، ریاستی جبر اور پابندیوں سے آزاد ہو۔کچھ سال قبل تک پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا میں صرف ٹی وی کا ادارہ تھا جو کہ سرکار نامہ کہلاتا تھا۔ پی ٹی وی پر سرکاری کوریج کے سوا آزاد خیا ل گفتگو ، غیر جانبدار ٹاک شوز اور دیگر سیاسی اور سماجی اور حکومت مخالف سرگرمیوں کی کوریج کا کوئی رواج نہیں تھا۔ یہ ہی حال سرکاری ریڈیو کا بھی تھا۔ وہاں بھی محض سرکار کے گیت گائے جاتے تھے ۔ جبکہ پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات و رسائل بھی مختلف ریاستی پابندیوں کی زد میں تھے۔ لیکن اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں صحافت کو قابلِ ذکر آزادی ملی۔ نہ صرف درجنوں نجی ٹی چینلز اور ریڈیو سٹیشنز کا قیام عمل میں لایا گیابلکہ اُن کو کچھ بھی اور کسی طرح کا بھی بولنے اور دیکھانے کا اجازت نامہ بھی دیا گیااور ساتھ ساتھ اخبارات کو بھی کسی بھی پابندی اور قدغن سے آزاد کیا گیا۔ پچھلے دس سالوں کے دوران پاکستان کے سیاسی اُفق اور اور اندرونی حالات و معاملات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آزاد میڈیا کا جو کردار رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں ہے۔ اور یہ نہ صرف قابلِ تعریف بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔ قطعِ نظر اِس کے کہ میڈیا کے کردار قالِ تعریف رہا یا قابلِ تنقید۔یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض نجی ٹی وی چینلز تو صدرِ مملکت ، وزیرِ اعظم ،دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کی پیروڈی تسلسل کے ساتھ جس انداز میں د،کھاتے ہیں ایسا تو انڈیا ، یورپ اور امریکہ میں بھی نہیں ہوتا ہو گا۔ جبکہ بعض نجی چینلز کی مخصوص نشریات اور اُن کے اینکرز کی گفتگو اور پروگرام کے شرکاء کو آپس میں لڑانے کے انداز کو دِیکھتے ہوئے اُن کی پالیسی اورمخصوص ایجنڈاور غیر ذمّہ داری کا بخوبی انداہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہاں وہ ٹی وی چینل پسندیدہ سمجھاجاتا ہے جس پر بیشک بِلا تصدیق کیوں نہ ہو لیکن دھواں دار اور سنسنی پھیلانے والی خبریں ہوں بیشتر ٹاک شوز میں اینکر پرسن جانبدار اور پروگرام کے شرکاء سے زیادہ بولتے نظر آتے ہیں اور یہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون مہمان ہے اور کون میزبان۔ بعض چینلز اور اخبارات بم دھماکوں اور دیگر جرائم کے ایسے ناقابلِ اشاعت تصاویر دِکھاتے اور شائع کرتے ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے خواتین ،کمزور دِل حضرات اور کم عمر بچے نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔میں یہاں معذرت کے ساتھ یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ علاقائی صحافت کرنا گو کہ مُشکل ،صبر آزمااور جان جوکھوں میں ڈالنے والا کام ہے اور علاقائی صحافت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور بہتر تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ضلع، تحصیل اور ٹاؤن سطح کے بیشتر نامہ نگار، نمائندگان اور رپورٹرز نا تجربہ کاری کے باعثصحافتی اقدار سے ناواقف ہوتے ہیں ص کِسی بھی اخبار یا ٹی وی چینل کا کوئی بھی علاقائی رپورٹر خود کو علاقے کا ایس ایچ او اور مجسٹریٹ سمجھنے لگتا ہے۔اکثر و بیشتر دوسروْں پر بِلاجواز تنقید کرنے والے یہ صحافی حضرات خود کو کِسی بھی ممعاشرتی پابندی سے آزاد اور ریاستی قاعدہ قانون سے مبرا تصور کرتے ہیں۔ فیچر ، مضمون ، آرٹیکل، تجزیہ و تبصرہ ، خبر اور بیان سے ناواقف اور کمزور صحافتی اپروچ کے حامل یہ صحافی حضرات بِلا تحقیق خبریں شائع کروانے سمیت علاقہ کے کمزور ، شریف اور عزت دار لوگوں کی پگڑی اُچھالنا گویا اپنی صوابدیدی اختیار سمجھتے ہیں علاقائی صحافت میں تخلیق کے فقدان کیبڑی وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ علاقائی صحافیوں کی باقاعدہ تربیت نہیں ہوتی بلکہ باعثِ تشویش امر تو یہ ہے کہ صحافیوں کو ٹریننگ دینے والے اداروں کے ٹرینرزصحافتی اقدارواصولوں سے ناواقف ہوتے ہیں اورِ ٹریننگ میں ورکنگ جرنلسٹ کے بجائے اُن لوگوں کو شامل کرتے ہیں جن کا صحافت سے دور دور تک بھی واسطہ نہیں ہوتالکھنے اور بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم آزادی صحافت کے قائل اور علمبردار ہیں مگر اظہارِ رائے اورذرائعِ ابلاغ کی آزادی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میڈیا سے منسلک لوگ صحافتی اور معاشرتی اقدار کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے قاعدہ قانون کو گھر کی لونڈی سمجھیں۔ شریف لوگوں کی پگڑی اُچھالنا اپنا حقِ پدری سمجھیں۔ بِلاشُبہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور ضروری ہے کہ اِس سے وابستہ افراد کو اپنی صحافتی اور معاشرتی ذمّہ داریوں کا نا صرف احساس ہو بلکہ ایک ذمّہ دار شہری کی حیثیت سے اُنہیں اپنی علاقائی جغرافیائی حدود، تاریخ، روایات، رسم و رواج، آبادی اور اِس کی ضروریات، وسائل اور اُسکے استعمال کے ذرائع، صحت اور تعلیم کی حالت، مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے احوال سرکاری اداروں کی کارکردگی ، علاقائی ترقیاتی عمل، سیاسی سماجی اور مذہبی سرگرمیوں، پولیس اور انتظامیہ کے فرائض، پانی، جنگلات، آبی اور جنگلی حیات کی اہمیت اور افزائشِ نسل، غیر سرکاری تنظیموں کی کارکردگی، علاقے میں موجود قدرتی معدنی وسائل، انتخابی نظام اور ریاستی قاعدہ قانون سے بخوبی واقفیت ہو اور ذمّہ داری کے ساتھ تعریف و تنقید کے
تناظر میں ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر غیر جانبدار کردار سے یہ ثابت کریں کہ وہ صحیح معنوں میں قومی مفادات کے تحفظ اور عوامی جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرنے والے اہلِ قلم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  مخدوم امین فہیم کو رات گئے دبئی سے ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی پہنچادیا گیا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker