تازہ ترینکالم

ظلم کی حد

rizwanچائنہ قدم رکھتے ہی وہاں سے ہمارے وزیراعظم صاحب کو ہر طرف اپنے ملک میں ترقی آتی نظر آرہی ہے دونوں بھائی مسکرا تو اس طرح رہے ہیں کہ جیسے ایڈ لینے کی بجائے دینے آئے ہوں۔ نجانے وہ کونسی خوشحالی ہے جو دونوں کو دن رات سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے مسکراہٹیں بکھیرنے سے نہیں روک پا رہی ۔حالت یہ ہے لوگ اپنے گھروں کے اندر محفوظ ہیں نہ سڑکوں پر۔ کوئی بتا رہا ہے کہ رات چور اس کے گھر کے اندر پارک گاڑی کو چرالے گئے تو کوئی چلا رہا ہے کہ دن دیہاڑے گن پوائنٹ پر میرے پیسے چھین لے گئے ۔ اے ٹی ایم مشینوں میں سورج ڈھل جانے کے بعد لوگ گھستے ڈرتے ہیں۔ جہاں دن دیہاڑے گارڈز کو قتل کرکے بینک لٹ جاتے ہوں وہاں بھلا شام کے سائے ڈھل جانے کے بعد اے ٹی ایم مشین سے اپنی رقم خود لے کر نکل آنا کس قدر اوپر والے کی رحمت ہے آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔ یہ کوئی چھوٹے شہروں کا حال نہیں بیان کر رہا یہ بڑے شہروں میں ہونے والی آئے روز کی وارداتوں کا احوال ہے آپ کو یقین نہیں ہے تو کسی روزشام کے بعد آیت الکرسی پڑھے بغیر کسی اے ٹی ایم مشین میں گھسنے کی جرات تو کرکے دکھادیں۔ لا اینڈ آرڈر کا یہ حال ہے ۔لیکن لوگ بیرون ملک جا کر دندیاں نکال کر نجانے کس خوشحالی کے دعوے کر رہے ہیں ۔ ملک میں ہر طرف چین کی بنسری بج رہی ہو تو بھلا چائنہ سے جرمنی کی فلائٹ لینے میں کیا حرج ہے ۔ لوگوں کو توہر بات پر اعتراض کرنے کی عادت سی پڑ گئی ہے ۔ ملک میں حالت جنگ سے بدتر امن کی حالت ہے یہ تو ملک کے بہادر شہریوں کا جگر ہے کہ بغیر کوئی گلہ کئے خود بھی عیاشی کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور حکمرانوں کو بھی اجازت دے رکھی ہے کہ کھل کر کھیلا جائے انی پادیو خیر اے۔ چلیں بات صرف شہر وں پر دن دیہاڑے ڈاکوں تک محدود رہتی تو کچھ حد کے اندر تصور کی جاتی ہے بات اگر صرف چوروں کے شہریوں کے گھروں کے اندر گھس کر لوٹ مار تک رہتی تو حد سے بس ذرا سا باہر تصور کی جاتی ۔ مگر یہاں تو حد کی حد تک ختم ہو چکی ہے۔ پولیس والے ساراد ن بس ایک ہی فکر میں ہیں کہ کیسے اپنی جیب گرم کی جائے اور اوپر والوں کی بھی منتھلی کا بندوبست کیاجائے ۔ جہاں پولیس شہریوں کو لوٹنے میں اپنا ثانی نہ رکھتی ہو۔ وہاں یہ اعلانات بھی سچ ہوتے ہیں کہ آدھے سے زیادہ جرائم پیشہ افراد درپردہ پولیس کی زیر سرپرستی یہ سب لوٹ مار مچاتے ہیں۔ شہروں میں ایک نمبر کی شراب لینی ہوتو پولیس والے یہ خدمات بھی انجام دے رہے ہیں۔ گویا جنہیں دودھ کی رکھوالی پر رکھا تھا وہی غٹا غٹ دودھ پینے میں مصروف ہیں ۔ خدا نہ کرے آپ کے ہاں کوئی چوری ہوجائے تو کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ تھانے جائیں گے اور کوئی وہاں بغیر کچھ لئے آپ کی بات سن لے گا چلیں آپ کی بات تو شائد کوئی واویلا مچانے پر سن ہی لے۔ کوئی آپ کا مال مسروقہ برآمد کرسکے گا۔ اگر آپ نے پولیس سے برآمد گی کی آس لگائی ہوتی ہے تو یا تو آپ پرلے درجے کے احمق ہیں یا پھر آپ کسی اچھے ملک سے آئے ہیں۔ جہاں آپ نے ہمیشہ یہ دیکھا کہ پولیس عوام کی جان اور مال کی حفاظت کرتی ہے لیکن اگر آپ ملک کے مستقل شہری ہیں تو اول تو لٹ جانے کے بعد آپ تھانے جاکر اپنا وقت ضائع کرنا ہی نہیں چاہیں گے اوراگر کوئی تھانے لے بھی جائے گا تب بھی آپ کو یہ یقین ہوگا کہ ملنا ولنا تو کچھ نہیں چلو پھر بھی اندھے بہرے قانون کا دروازہ کھٹکا کر دیکھ لیتے ہیں۔ اگر آپ باربار تھانے جائیں گے تو دوسرے یا تیسرے وزٹ پر پولیس والے آپ کی جیب پر نظر صاف کرنا شروع کردیں گے اس سے اگلی اسٹیج میں وہ تنگ آکر آپ کو پاگل بھی قرار دے سکتے ہیں۔ آخری اسٹیج پر آپ کو تھانے کے اندر داخل ہونے سے ہی منع کردیا جائے گا ۔بس جی مل گیا آپ کو انصاف ہو گیا آپ کا مال برآمد . لٹ جانے کے بعد عقلمند ی لوگ اسی میں ہی سمجھتے ہیں کہ عزت سے گھر پر بیٹھو یاروں دوستوں کو اپنا دکھڑا بیان کرو اور صبر کے گھونٹ پی لو ۔یہ ہے وہ ترقی یافتہ پاکستان کہ جو چائنہ جا کر مزید ترقی یافتہ دکھائی دینا شروع کر دیتا ہے ۔یہ دانت نکا ل کر فوٹو سیشن کروانے کے بجائے رونے سے بھی اگلی منزل پر جا کر معافی مانگنے کا مقام ہے۔ روئے تو وہ جسے اس ملک میں کوئی خرابی نظر آ رہی ہو ماشااللہ وزیرو ں مشیرو ں کی وہ فوج میسر ہے کہ جو دن رات ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی دکھانے میں مصروف ہے خرابی یا تو چینلز کے کیمروں میں گھسی ہے یا پھر لکھنے والوں کے قلم گند سے بھرے ہیں۔ باقی تو ہر طرف حکومتی چاپلوس چین ہی چین دیکھ رہے ہیں اور جوان کو نظر آ رہا ہے ساون کے اندھوں کو یہی وہ لوگ آگے بادشاہ معظم کو بتا رہے ہیں ۔ ہری ہری ترقی سے لبریز رپورٹوں کا اثر ہے کہ بادشاہ سلامت جب عوام کو بلبلاتے دیکھتے ہیں تو گھبرا کر پوچھتے ہیں کہ یہ کس ملک کے مظلو م عوام ہیں کو ن سا ظالم بادشاہ ہے جو ان پر اتنے ظلم توڑ رہا ہے درباری باادب ہوکر عرض کرتے ہیں حضور آپ نہ سوچیں یہ ہمارے ملک سے ہزاروں کوس دور کا کوئی ملک ہے آپ سے پہلے اس ملک کی بھی یہی حالت تھی لیکن آپ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے اب یہا ں سب کچھ بدل چکا ہے۔ آپ سکون سے بیرون ممالک کے بھیک مانگنے کے مشن پر اپنا توڑا ہوا کشکول لے کر روانہ ہو ں۔رہے عمران خان صاحب ان کے دھرنے اور دھاندلی کا شور اس کیلئے بھولی صورت والے پر ویز رشید بھرپور طریقے سے محمد علی درانی کے نسخوں پر عمل کر رہے ہیں۔ ان کی پرفارمنس تو درانی صاحب سے بھی کئی درجہ بہتر محسوس ہوتی ہے۔ گلابی رنگ کے لحاف میں لپٹی چند ماہ کی بتول کی لاش کوئٹہ کی سڑک پر موم بتیوں کے درمیان رکھی دیکھ کر بھی اگر پرویز رشید صاحب گڈ گورنس کے اپنے دعووں سے باز نہیں آئے تو شائد اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بج جانے کے بعد بھی وہ اسی ڈھٹائی کے ساتھ مسکراتے ہوئے پریس کانفرنس میں سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہوں گے۔ شائد یہ جلاوطنی اور اس سے پہلے کا وقت بھول گئے ہیں لوگ بچوں کے لاشے سڑکوں پر رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں اور اسی ملک کے وزیراعظم اور سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلی ورلڈ ٹور پر نکلے ہوئے ہیں۔ خدا کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے۔ ان عقل کے بزرگوں نے نہ ماضی سے کچھ سیکھا ہے نہ ہی حال سے کچھ عبرت لے رہے ہیں ۔ ان کے نام بس مسلمانوں والے ہیں ورنہ مسلمانوں کا فلسفہ حکمرانی نہ کسی نے ان کو بتایاہے نہ یہ جاننے کے خواہاں ہیں۔ رہے اہل وطن تو وہ اس وقت کے انتظار میں ہیں جب ان کو وہ حکمران میسر آئے جو کہے کہ بھوک کی وجہ سے کتا بھی مرگیا تو اس کا بھی میں جواب دہ ہوں۔ اگر جمہوریت اٹھارہ لوگوں کے ریاستی قتل کے باوجود اس ملک میں چل رہی ہے تو پھر ہم اسی قابل ہیں کہ اس جمہوریت کا مزید ظلم سہیں اور خاموشی سے نہ ختم ہونے والا انتظار کرتے رہیں۔

note

 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker